آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’مچل سینٹنر کے بھید نیوزی لینڈ کا خواب ادھورا کر گئے‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
جیت سے بھی زیادہ اہم جیت کی بھوک ہوتی ہے۔ کوئی ٹیم اگر صرف فائنل میں پہنچنے پہ ہی راضی ہو جائے تو پھر اس کا حال انھی کیویز جیسا ہوتا ہے جو پچھلی ایک دہائی بھر میں پانچ آئی سی سی فائنلز کھیل چکے ہیں مگر ورلڈ چیمپئن بننے کی امید ہر بار حسرت ہی رہی۔
جب کوئی ٹیم جیت کی بھوکی ہو تو وہ فائنل جیسے حتمی معرکے کے لئے اپنے پچھلے میچ کے موثر ترین سپنر کو ڈراپ نہیں کرتی اور نہ ہی اس پچ پہ ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کرتی ہے جہاں سارا ڈیٹا بھی پہلے بلے بازی کے حق میں ہو۔
یہاں اگر سوریا کمار یادیو ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ ہی کا فیصلہ کرتے۔ وہ ٹاس تو ہار گئے مگر ان کے حریف کپتان نے نہ صرف انہیں پہلے بیٹنگ کرنے پہ 'مجبور' کر دیا بلکہ اپنی ٹیم میں فاسٹ بولر جیکب ڈفی کی واپسی کی بھی نوید سنائی۔
اگر تو اس فیصلے کا معیار سیمی فائنل میں پہلے بولنگ کا نتیجہ تھا تو پھر یہ روشن حقیقت کیسے بھلا دی گئی کہ جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے بولنگ کے فیصلے کو موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے کول مک کونکی انڈین ٹاپ آرڈر کے خلاف بھی تو پاور پلے میں وہی کردار دہرا سکتے تھے۔
پھر بھی جب دوسرے اوور میں گلین فلپس کی آف سپن نے انڈین اوپنرز کو باندھے رکھا تو وہاں بے سبب میٹ ہینری کو اٹیک سے نکال کر جیکب ڈفی کو متعارف کروایا گیا۔ ڈفی کا پہلا اوور پندرہ رنز میں پڑا اور انڈین اننگز کا رن ریٹ چھ سے نو پہ چلا گیا۔
چوتھے اوور میں فلپس سے رجوع کرنے کی بجائے سینٹنر نے مزید پیس کا عزم کیا اور گیند لوکی فرگوسن کو تھما دی۔
جہاں فلپس کی آف سپن کا ایک اوور صرف پانچ رنز میں پڑا تھا، وہاں پاور پلے کے باقی پانچ اوورز فاسٹ بولرز کو دئیے گئے جن کی مجموعی کمائی فی اوور 14 رنز سے زیادہ رہی۔ یہ گویا میچ شروع ہونے سے پہلے ہی میچ کے نتیجے کی خبر تھی۔
ابھیشک شرما اگرچہ مکمل کنٹرول سے پرے تھے، پھر بھی کیوی پیسرز کی بھد اڑاتے چلے گئے۔ دوسری جانب سنجو سیمسن اپنے کرئیر کی بہترین فارم میں تھے جو احمد آباد سٹیڈیم کے ہجوم کو شاندار تفریح فراہم کرتے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے دس اوورز میں ہی انڈین اننگز وقت سے اتنا آگے بھاگ چکی تھی کہ کیویز کا تاخیری ردِعمل میچ کو واپس کھینچنے کے لئے ناکافی تھا۔
سینٹنر یہ دلیل لا سکتے ہیں کہ اوس کے ہنگام دوسری اننگز میں بیٹنگ آسان ہونے کا امکان ان کے اندازے ڈگمگا گیا مگر وہ اس امر کی کیا توجیہہ کر پائیں گے کہ یہاں سامنا جسپریت بمراہ کے بولنگ اٹیک سے تھا جو اوس کے پڑنے سے کہیں پہلے ہی ارمان بھگو سکتا تھا۔
انڈین ٹیم کے لیے اس ورلڈ کپ کا آغاز آسان نہیں تھا اور جس طرح پہلے ہی گروپ میچ میں امریکہ کے خلاف اس کی بیٹنگ ڈگمگائی، آثار بہت روشن نہیں دکھائی دیتے تھے۔ لیکن چلتے چلتے بالآخر گوتم گھمبیر کو اپنی بہترین الیون مل ہی گئی اور سنجو سیمسن کی واپسی نے انڈین بیٹنگ کی شکل بدل دی۔
گو ورلڈ کپ فائنل جیتنے کے لئے 256 رنز کا ہدف کسی کوہِ گراں سا تھا مگر انڈین اننگز کے اختتام پہ کیویز کے اعصاب اس امکان سے کچھ بحال ہوتے نظر آئے کہ سیمی فائنل میں فن ایلن نے جو قہر جنوبی افریقہ پہ ڈھایا تھا، ویسی ہی کاوش اگر یہاں بھی ممکن ہو گئی تو یہ ہدف بھی کٹتے دیر نہیں لگے گی۔
مگر سوریا کمار یادیو نے اپنے سبھی پتے بہت سوجھ بوجھ سے کھیلے۔ جو حال سیمی فائنل میں جیکب بیتھل نے انڈین بولنگ کا کیا تھا، ویسے کسی خدشے سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ پاور پلے میں ہی فن ایلن کی وکٹ حاصل کی جائے۔
یہاں یادیو نے اکسر پٹیل کا داؤ کھیلا اور شروع میں ہی کیوی اننگز کے حوصلے ہی ڈھا دیے۔
احمد آباد میں جیت کے لیے جو بنیادی فیصلے کیویز کو درستی سے کرنا تھے، وہ مچل سینٹنر اور اس تھنک ٹینک کے ابہام کا شکار ہو گئے۔ جو ٹیم آئی سی سی ایونٹس کی سیریل سیمی فائنلسٹ کہلایا کرتی تھی، پچھلی ایک دہائی میں کئی بار یہ رکاوٹ عبور کر کے سیریل فائنلسٹ کا درجہ پانے کو ہے مگر ورلڈ چیمپئین بننے کی راہ میں ہر بار ایک قدم پیچھے ہی گر جاتی ہے۔
احمد آباد میں مچل سینٹنر کے ابہام نے اس کیوی خواب کی تعبیر اور پرے کر دی۔