معروف تاجر برادری کی دولت کی گواہی دینے والی سو سال پرانی حویلیاں ویرانی کی داستان کیسے بنیں؟

،تصویر کا ذریعہSOUMYA GAYATRI
- مصنف, سومیا گایتری
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
میں انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے شہر کارائے کوڈی میں ٹرین سے اُتری تو شام ہو چکی تھی اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔
میں ٹیکسی میں روانہ ہوئی تو راستے میں مجھے سینکڑوں شکستہ حویلیاں دکھائی دیں جن کو ’چتی نند‘ حویلیاں کہا جاتا ہے۔
لیکن ان انتہائی خوبصورت عمارتوں میں سے بیشتر آج مکمل طور پر خالی ہیں۔
اس خطے میں تقریباً دس ہزار ایسی حویلیاں ہیں۔ ہر ایک تقریبا کئی ایکڑوں پر محیط ہے۔
ان حویلیوں کو یہاں کی امیر تاجر برادری ’نتوکوٹائی چیتیار‘ کمیونٹی نے تعمیر کروایا تھا جنھوں نے قیمتی پتھروں کی بیرون ملک تجارت سے خوب پیسہ کمایا۔
19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے آغاز پر اس برادری نے اپنی معاشی طاقت کا عروج پایا اور یہی وہ وقت تھا جب ان حویلیوں کو تعمیر کروایا گیا۔
تاہم دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو تجارت ٹھپ ہو گئی اور اس برادری کی دولت میں کمی واقع ہوئی۔
یہ ان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا جب اس برادری کے افراد کو ملازمت کی تلاش میں اپنا شہر اور ملک تک چھوڑنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج اس شہر کی چکن ڈش اور نوادرات تو مشہور ہیں لیکن تقریباً 73 دیہات پر پھیلی یہ حویلیاں سیاحوں کی نظروں سے دور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSOUMYA GAYATRI
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اکثریت کھنڈروں کا منظر پیش کرتی ہیں جبکہ چند کو ان کے مالکان نے حویلیوں کو ہوٹل یا میوزیم کی شکل دے رکھی ہے، شاید یہ تاجر اپنی کہانی کو زندہ رکھنے میں دلچسی رکھتے ہیں۔
میں کاناڈوکاٹھن گاؤں پہنچی جہاں ایک سو سال پرانی چیتی ناڈو حویلی میں بنے ہوٹل میں مجھے دو دن قیام کرنا تھا۔ ادھیڑ عمر مالک نے میرا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس حویلی کی تزئین و آرائش ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا پسندیدہ کام تھا۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ ’میرے دادا نے یہ حویلی 1902 سے 1912 کے درمیان تعمیر کروائی اور یہاں میرے خاندان سمیت ہماری چار نسلیں رہیں۔ مجھی اپنی میراث پر فخر ہے اور اس کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔‘
43 ہزار سکوائر فٹ پر پھیلی اس حویلی کے متعدد کمروں اور دالانوں میں گھومتے ہوئے میں اس کی شاندار تعمیر کو سراہے بنا نہ رہ سکی۔
میری نظر ایک دالان میں موجود ستونوں پر پڑی جن پر نیلا رنگ تھا۔ ایک تنگ سیڑھی مجھے ایک ہوا دار مقام پر لے آئی جہاں مہمانوں کو ٹھہرانے کے لیے کمرے موجود تھے۔
چندرامولی نے مجھے بتایا کہ اس حویلی کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی برما سے آئی تھی۔ ’شیشہ اور فانوس بیلجیئم سے جبکہ فرش کے لیے سنگ مرر اٹلی سے خریدا گیا۔‘
’ہال میں موجود ستونوں کے لیے گرینائٹ سپین سے اور مرکزی دالان میں ستونوں کے لیے انگلینڈ سے سامان منگوایا گیا۔‘
حویلیوں کی تعمیر ایک سنجیدہ معاملہ تھا جس کے لیے اس برادری نے اپنا پیسہ بھی لگایا اور خوابوں کے محل کی تعمیر میں اپنا دل بھی۔
ان کو یورپ کا طرز تعمیر اچھا لگتا تھا اور انھوں نے دنیا بھر سے سامان منگوایا جس کی جھلک یہاں نظر آتی ہے۔ تاہم تمل طرز تعمیر بھی کھلے دالانوں اور برآمدوں کی شکل میں واضح ہے۔
ڈاکٹر سیتھا راجیو کمار تمل ناڈو کے ادھیامان انجینیئرنگ کالج میں شعبہ آرکیٹیکچر کی سربراہ ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں کی عمارتیں بتاتی ہیں کہ کس طرح باہر سے خیالات کی مدد سے مقامی طرز تعمیر کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمدہ تعمیر کی جا سکتی ہے اور اسی وجہ سے یہ اتنی خاص ہیں۔‘
ہر حویلی میں اوسطا 50 کمرے ہیں اور تین سے چار دالان۔ اکثریت ایک ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تعمیر ہیں اور تقریباً پوری گلی پر محیط ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو مقامی لوگ ’بڑے گھر‘ کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSOUMYA GAYATRI
چندرا مولی بتاتے ہیں کہ ’ہمارے آباؤاجداد نے اتنے بڑے گھر اس لیے بنائے تھے کہ پورا خاندان یہاں رہے گا۔ چونکہ مرد کاروبار کے لیے زیادہ تر باہر رہتے تھے تو یہ ضروری تھا کہ خواتین اور بچے خود کو ان کی غیر موجودگی میں محفوظ سمجھیں۔‘
ایک زمانے میں ہر حویلی میں 70 سے 80 لوگ رہا کرتے تھے۔
اگلے دو دن میں نے درجنوں حویلیوں کا دورہ کرنے میں صرف کیے۔ ہر ایک کی اپنی تاریخ تھی۔
پہلے میں نے ایک گاؤں میں موجود حویلی کا دورہ کیا جسے ’اٹھنگوڈی محل‘ کہا جاتا ہے۔ اس حویلی کو اب میوزیم کا روپ دیا گیا ہے جسے دیکھ کر میں دنگ رہ گئی۔
اطالوی سنگ مرر سے بنا فرش، ہسپانوی گرینائت کالم، بیلجیئم کے شیشوں سے بنی کھڑکیاں اور مغل طرز کی بالکونی۔۔۔یہ عمارت تو کسی بادشاہ کے لیے بنی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSOUMYA GAYATRI
اس کے بعد میں نے علاقے کے ثقافتی ہوٹل بنگلا کا دورہ کیا۔ یہاں آنے کا مقصد مقامی پکوان کی کلاس لینا تھا لیکن میں اس حویلی کی تاریخ سے متاثر ہوئی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حویلی باقی حویلیوں کی طرح خاندانی گھر نہیں تھا بلکہ ایم ایس ایم ایم خاندان نے اسے تقریبات کے لیے بنایا تھا جہاں صرف مرد ہی آ سکتے تھے۔ اس حویلی میں خواتین کا داخلہ منع تھا۔
تاہم اب اس حویلی کی دیکھ بھال میناکشی میاپن کرتی ہیں جو اسی خاندان کی بہو ہیں۔
89 سالہ میناکشی مقامی پکوانوں پر ایک کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔
میرے دورے کے دوران چند حویلیوں میں رہنے والے مالکان نے مجھے دعوت بھی دی جبکہ کچھ ایسی حویلیاں بھی تھیں جن کے دروازوں پر تالے پڑے ہوئے تھے۔
چند حویلیاں مقدمات کی وجہ سے کھنڈر میں بدل رہی تھِں جب کہ چند اس لیے ویران تھیں کہ ان کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنے کی لاگت اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔
راجیو کمار نے بتایا کہ ان حویلیوں کو بحال کرنے کا خرچہ ہزاروں ڈالر تک ہو سکتا ہے اور ’یہ صرف ایک بار کا خرچہ نہیں ہے کیوں کہ ان کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSOUMYA GAYATRI
چندرامولی کا کہنا ہے کہ اب تک صرف 10 فیصد حویلیوں کو دوبارہ سے سیاحوں کے لیے اصل شکل میں بحال کیا گیا ہے جبکہ 30 فیصد مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
’ہمارا کام ہے کہ باقی 60 فیصد کو مل کر بحال کریں۔‘
میاپن مقامی تاریخ اور ثقافت میں ازسر نو دلچسپی پیدا کرنے اور ان تباہ حال حویلیوں میں نئی زندگی ڈالنے کے لیے پر امید ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اگست اور ستمبر میں مقامی میلے کے ذریعے اس جانب پہلا قدم اٹھایا جائے گا۔
اگرچہ یہ مقام انڈیا میں بھی زیادہ تر لوگوں کی نظر سے دور ہے تاہم چندرا مولی اور میاپن جیسے مقامی افراد کی کوششوں سے ان بھولی بسری حویلیوں میں ایک نئی جان پیدا ہو رہی ہے۔













