مبینہ ملزم کا عجلت میں اعترافی بیان کیوں جاری ہوا اور اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ملزم

،تصویر کا ذریعہSocial Media

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران اُن کے کنٹینر پر فائرنگ سے جہاں ملک میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھے ہیں وہیں اس واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے مبینہ حملہ آور کے اعترافی بیان کو فوری جاری کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

اس واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی پولیس نے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔ مگر مبینہ ملزم نوید احمد کی تھانہ کنجاہ گجرات کے اندر سے متعدد ویڈیوز منظر عام پر آئی جس میں وہ عمران خان پر حملے کا اقرار کر رہے ہیں اور اس کی وجوہات بتا رہے ہیں۔

یہ ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے ’سخت نوٹس‘ لیتے ہوئے متعلقہ تھانے کے پورے عملے کو معطل کرتے ہوئے ’پولیس اہلکاروں کے موبائل فرانزک کی غرض سے ضبط کر لیے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے اس واقعے پر آئی جی پنجاب پولیس کو اعلی سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو بھی شامل کیا جائے گا ’تاکہ واقعے کے محرکات کا جائزہ لیا جا سکے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں اللہ والا چوک کے مقام پر جب تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا کنٹینر پہنچا تو وہاں اچانک فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص ہلاک ہوا۔

تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں کے مطابق عمران خان اور زخمی ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس کی حراست میں موجود مبینہ حملہ آور نوید احمد کے اعترافی بیان کی متعدد ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ اس اعترافی بیان کی حیثیت کیا ہے؟ پولیس نے اعترافی بیان کو اتنی عجلت میں کیوں جاری کیا اور اس بیان کا اس واقعے کی تحقیقات پر کیا اثر پڑے گا؟

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوشل میڈیا صارف ثنا جمال نے اسی بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’اتنے اہم اور ہائی پروفائل مقدمے میں اتنی عجلت میں ملزم کا اعترافی بیان کیوں جاری کیا گیا؟ یہ بیان کس نے جاری کروایا اور حکومت تحقیقات کے بنا ہی ایک مبہم بیان کو مصدقہ قرار دینے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

جبکہ ثمر ذوالفقار نامی صارف نے لکھا کہ ’اس واقعے کے متعلق تحقیقات کا آغاز پنجاب پولیس سے ہونا چاہیے جنھوں نے یہ اعترافی بیان ریکارڈ کیا۔ انھیں کس نے یہ اعترافی بیان ریکارڈ کرنے اور میڈیا کو جاری کرنے کا کہا؟‘

اسی طرح تیمور ملک نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ اعترافی بیان ایک مذاق ہے۔ یہ اتنی کم وقت میں اتنے پرسکون انداز سے جاری کیا گیا جس میں سوال پوچھنے والا دوستانہ انداز میں بات کر رہا ہے۔ پنجاب حکومت کو اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ کس نے اسے ریکارڈ کرنے اور جاری کرنے کی اجازت دی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

سیکورٹی امور کے ماہر سابق جنرل امجد شعیب نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے ایسے ہی سوال اٹھائے کہ ’یہ سب کیا ہو رہا ہے اور گولی چلانے والے کا تحقیقات کے بنا اتنی جلدی بیان کیسے جاری کر دیا گیا؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

یہ بھی پڑھیے

اس نوعیت کے اعترافی بیان کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پنجاب کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس سرمد سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے مقدمے میں پولیس حراست میں ملزم کے بیان کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے بلکہ درحقیقت ہائی پروفائل کیسز میں یہ تحقیقات کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عموماً سنگین نوعیت کے مقدمات میں تو میڈیا میں ملزم کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی جاتی کیونکہ اس سے شناخت پریڈ کے عمل پر اثر پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے اور اس سے عدالت میں شواہد کمزور ہوتے ہیں۔

سابق آئی جی پولیس پنجاب سرمد سعید کا کہنا تھا مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اعترافی بیان کی قانونی اہمیت ہوتی ہے اور یہ اس وقت ریکارڈ کیا جاتا ہے جب ملزم کو پولیس تفتیش کے بعد مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ عمومی طور پر مجسٹریٹ کے سامنے ملزم یا ملزمان یہ کہہ کر پولیس کو دیے گئے ’اعترافی‘ بیان سے مکر جاتے ہیں کہ انھوں نے یہ سب تشدد یا دباؤ کے باعث کہا تھا مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔

 سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور قانونی ماہر احسن بھون کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس اہم واقعے میں سامنے آنے والی اعترافی بیان کے ویڈیوز کی اس وقت تک کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جب تک ان کا فرانزک نہ کروایا جائے اور دیگر محرکات اور عوامل کو اس کے ساتھ جوڑ کر نہ دیکھا جائے اور سب سے اہم یہ کہ ملزم اس بیان کو عدالت کے سامنے بھی تسلیم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون شہادت کے مطابق پولیس کے سامنے اعترافی بیان کو قابل ادخال شہادت (یعنی وہ شہادت جسے عدالت کے روبرو پیش کیا جا سکے یا عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے) نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ ملزم عدالت میں بھی اس کا اقرار کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنے بڑے واقعے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 19 کے تحت حکومت تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے عسکری و سول سکیورٹی ایجنسیوں اور اداروں کے سینیئر افسران پر مشتمل ایک جے آئی ٹی تشکیل دے کر اس کے واقعے کے محرکات کو جانا جائے گا۔

اعترافی بیانات اتنی عجلت میں کیوں جاری کیے گئے؟

یہ ویڈیو بیانات اتنی عجلت میں کیوں جاری کیے گئے؟ اس سوال کے جواب میں احسن بھون نے کہا کہ ’ہمارے ہاں ایسے اہم مقدمات میں پولیس کو سیاسی اور غیر ضروری مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے ان کی تحقیقات متاثر ہوتی ہیں اس کیس میں بھی ایسا ہی ہے۔‘

سابق آئی جی پولیس پنجاب سرمد سعید کا کہنا تھا کہ بڑے اور اہم مقدمات میں پولیس پر کئی طرح کے دباؤ ہوتے ہیں اور اس کو آزادانہ طور پر اپنا کام نہیں کرنے دیا جاتا جس کی وجہ سے پولیس بعض اوقات ایسے اقدامات کر گزرتی ہے یعنی پولیس کی جانب سے ملزم/ملزمان کے اعترافی بیانات جانتے بوجھتے میڈیا یا سوشل میڈیا پر جاری کر دیے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور قانونی ماہر احسن بھون کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ملک میں سوشل میڈیا کے آنے بعد جس طرح سے ہر بندہ ہر واقعے کو ریکارڈ کرتا ہے اسی وجہ سے ایسے اعترافی بیان کی ویڈیوز بہت جلدی منظر عام پر آ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت عجیب صورتحال ہے اور یہ کس نے ریکارڈ کی یہ بعد کا معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اعترافی بیان کی ویڈیوز کا فرانزک کروایا جائے گا۔