تحریک انصاف کی آج پھر احتجاج کی کال، حکومت نے عمران خان سے شواہد مانگ لیے
سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور ثبوت فراہم کریں۔
لائیو کوریج
عمران خان اور فوج ’ایک پیج‘ کے بیانیے کے باوجود آمنے سامنے کیسے آئے؟
بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں رہائش کی کوئی سہولت نہیں، سپیشل برانچ کی رپورٹ بے بنیاد ہے: اکیڈمی کا دعویٰ
’عمران خان تحقیقات کا حصہ بنیں، ثبوت فراہم کریں‘
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان سکاٹ لینڈ یارڈ سمیت جہاں مرضی سے تحقیقات کرانا چاہتے ہیں کرائیں مگر ’ہماری شرط صرف یہ ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور الزامات کا ثبوت فراہم کریں گے۔‘
جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ عمران خان جھوٹ بولے گا اور وہ اسے سچ سمجھ لیں گے، وہ وقت ختم ہو چکا۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان کا جہاں دل کرتا ہے تحقیقات کروائیں لیکن اس تحقیقات کا حصہ ضرور بننا ہوگا۔ ’وفاق اس میں بھرپور تعاون کرے گا۔‘
’عمران خان الزام عائد کر رہے ہیں کہ تین افراد نے ان پر قاتلانہ حملے کی سازش کی، عمران خان الزام تو لگا رہے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر رہے۔‘
عمران خان کا الزام، فوج کی تردید: کیا پولیس حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے؟
تحریک انصاف کی آج بھی تمام شہروں میں احتجاج کی کال
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کہتے ہیں کہ ’پانچ بجے پاکستان کے تمام شہروں میں احتجاجی اجتماع ہوں گے۔ ہر شہر کی احتجاج کی جگہ کا اعلان مقامی تنظیمیں کریں گی۔
’ان کو دکھائیں حقیقی طور پر آزاد قوم کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ میں خود لبرٹی چوک لاہور میں احتجاج میں شرکت کروں گا۔‘
بریکنگ, ’کسی کو بھی فوج یا افسران کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں‘، آئی ایس پی آر کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ادارے اور ایک مخصوص سینیئر آرمی افسر پر بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات ناقابل قبول اور بلاجواز ہیں۔
ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قوائد ضوابط پر فخر کرتی ہے اور اس میں کسی یونیفارمڈ اہلکار کی جانب سے کسی ممکنہ غیر قانونی اقدام پر اندرونی احتساب کا ایک مؤثر نظام موجود ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ رینک اینڈ فائنل پر بے بنیاد الزامات لگائے جانے پر ادارہ ہر صورت میں افسران اور فوجیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ’کسی کو بھی ادارے یا فوجی افسران کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
فوج نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ادارے پر بے بنیاد الزامات سے اسے بدنام کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’مفاد پرستوں کے فضول الزامات سے فوجیوں کی عزت کو داغ دار کیا جا رہا ہے۔ حکومت ادارے اور افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کرے۔‘
مریم اورنگزیب: جس عالمی ادارے سے چاہیں تحقیقات کروائیں، مگر خود بھی پیش ہوں
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سے لے کر پولیس تک پنجاب میں تمام مشینری ان کی ہے، وہ جس عالمی ادارے سے چاہیں اس واقعے کی تحقیقات کروا لیں۔
تاہم مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس تحقیقات سے رانا ثنااللہ، شہباز شریف اور ’ادارے‘ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے الزامات لگائے ہیں تو وہ خود بھی ان تحقیقات میں پیش ہوں، وفاق اس میں پوری طرح تعاون کرے گا مگر ’جھوٹی کہانی عوام نہیں سنیں گے۔‘
عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کی ایف آئی آر کٹے، مریم اورنگزیب

،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان میڈیکولیگل نہیں کروا رہے، پولیس کو اور سرکاری ڈاکٹرز کو شوکت خانم تک رسائی نہیں دے رہے، اور چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کی ایف آئی آر کٹے۔
اُنھوں نے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر قانون کے مطابق نہیں بلکہ ان کی مرضی کے مطابق کٹے۔ ’ان کے مطابق جن لوگوں نے قاتلانہ حملہ کیا وہ تو تحقیقات میں دلچسپی رکھتے ہیں عمران خان کہہ رہے کہ نہیں، بس الزام لگایا جائے۔‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ عمران خان ’بغیر تحقیق اور ثبوت‘ کے شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور جنرل فیصل نصیر کے نام لے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کے استعفوں کے بغیر تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام وسائل عمران خان اور ان کی جماعت کے ہیں، وہ اس کی جیسے چاہے تحقیقات کریں، لیکن اُنھوں نے کہا کہ یہ تین افراد استعفیٰ کیوں دیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ عمران خان جس وقت زخمی ہوں اس وقت وہ پریس ٹاک کریں مگر ’اس حالت میں بھی اتنا جھوٹ بولا گیا۔‘
مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان اپنی کہانی اپنی حکومت بننے اور اس دوران ’معیشت کی تباہی‘ اور ’خارجہ تعلقات میں ابتری‘ سے شروع نہیں کرتے بلکہ سات مارچ سے کرتے ہیں جب مبینہ طور پر عمران خان کو پہلی مرتبہ سائفر سے متعلق اطلاع ملی اور اُنھوں نے مبینہ طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ کو غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی پیشکش کی۔
اُنھوں نے کہا کہ عمران خان نے آٹھ مارچ کو کیوں قوم کو سائفر سے متعلق حقائق سے آگاہ نہیں کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر عمران خان کو پہلے سے خود پر حملے کی سازش کا علم تھا تو کیوں لانگ مارچ کو جاری رکھا گیا اور پنجاب حکومت کو نہیں بتایا۔
بریکنگ, عمران خان: ’تینوں‘ کے استعفے تک احتجاج کریں
عمران خان نے عوام سے کہا ہے کہ وہ شہباز شریف، رانا ثنااللہ، اور میجر جنرل فیصل نصیر کے استعفوں تک احتجاج کریں۔
اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ تینوں افراد کے ہوتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔
عمران خان نے کہا کہ وہ ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ اسلام آباد کی کال دیں گے۔
عمران خان کا چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے سوموٹو نوٹسز لینے کا مطالبہ
عمران خان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔
اُنھوں نے چیف جسٹس سے شہباز گل، اعظم سواتی و دیگر پر تشدد کے واقعات پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
عمران خان: جنرل باجوہ جاگیں یہ ملک تباہی کی طرف کی طرف جا رہا ہے
عمران خان نے ایک مرتبہ پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جاگیں، یہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔
بریکنگ, عمران خان: اسلام آباد کے لیے دوبارہ کال دوں گا
عمران خان نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور اسلام آباد کے لیے دوبارہ کال دیں گے۔
عمران خان: ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی مگر سب ان سے ڈرتے ہیں
عمران خان نے کہا کہ اُنھوں نے واقعے کی ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی ہے تاہم سب ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ادارہ قانون سے اوپر ہے۔
اُنھوں نے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا کہ ’انسانوں پر تشدد میں شامل فوج کے لوگوں‘ کے خلاف کارروائی کرنے سے فوج کا وقار اوپر جائے گا یا نیچے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر فوج میں موجود لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ایسے کام کرنے سے فوج کے خلاف نفرتیں بڑھیں گی۔
اُنھوں نے کہا کہ جب تک شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر استعفیٰ نہیں دیتے تب تک اس معاملے کی تفتیش کیسے ہو گی۔
عمران خان کا حملہ آوروں کی تعداد دو ہونے کا دعویٰ
عمران خان نے کہا کہ اُن پر دو مختلف سمتوں سے دو برسٹ فائر کیے گئے اور وہ زخمی ہو کر گر گئے تو ممکنہ طور پر حملہ آور سمجھے کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
عمران خان: جنرل فیصل نصیر کی ایما پر لوگوں پر تشدد کیے گئے
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ جنرل فیصل نصیر کی ایما پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل، صحافی جمیل فاروقی اور سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد کیا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنے کی وجہ سے اعظم سواتی پر تشدد کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔
بریکنگ, وزیر آباد سے ایک دن قبل تین لوگوں نے مجھے مارنے کا منصوبہ بنایا، عمران خان
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وزیر آباد سے ایک دن قبل تین لوگوں نے اُنھیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ تین لوگ ان چار لوگوں سے مختلف ہیں جن کی وہ پہلے بات کر چکے ہیں۔
انھوں نے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور پھر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا نام لیا۔ انھوں نے تیسرا نام میجر جنرل فیصل نصیر کا لیا جو آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے سربراہ ہیں۔
عمران خان کی طرف سے اسد عمر گذشتہ روز بھی ان تینوں پر الزام عائد کر چکے ہیں۔
بریکنگ, عمران خان: چار لوگوں نے بند کمرے میں مجھے قتل کروانے کا فیصلہ کیا
عمران خان نے کہا کہ انھوں نے ویڈیو میں چار لوگوں کے نام لے کر محفوظ کروا رکھی ہے جنھوں نے ان کے مطابق انھیں قتل کروانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اُنھیں کچھ ہوا تو یہ ویڈیو ریلیز کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان: جانتا ہوں ارشد شریف کے پیچھے کون پڑا ہوا تھا
عمران خان نے ایک مرتبہ پھر جنرل فیصل نصیر کا نام لیتے ہوئے ان پر صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملوں کے الزامات عائد کیے۔
عمران خان نے ارشد شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں، ارشد شریف کے گھر والے اور ان کے ساتھی صحافی جانتے ہیں کہ ارشد شریف کے پیچھے کون پڑا ہوا تھا اور کیوں اُنھیں ملک سے باہر جانا پڑا۔
عمران خان: اس پارٹی سے فنڈنگ کا جواب مانگا جا رہا ہے جس کے پاس ڈیٹا ہے
عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت کے پاس 40 ہزار عطیہ کنندگان کا ڈیٹا ہے مگر جواب صرف انہی سے مانگا جا رہا ہے، نہ کہ ان جماعتوں سے جن کے پاس جواب ہی نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ وہ عوام سے پیسے اکٹھے کرتے ہیں اس لیے عوام کے مفادات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ایف آئی اے ان کی جماعت کو نقصان پہنچ رہی ہے تاکہ عطیہ کنندگان ڈر جائیں۔
