شیخوپورہ: ڈکیتی کی وارداتوں میں خواتین کا مبینہ ریپ کرنے والا گینگ جو متنازع پولیس مقابلے میں مارا گیا

مسیحی خاندان
    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی

نوٹ: اس تحریر میں متاثرہ خواتین اور اُن کے اہلخانہ کے نام حفاظت کی غرض سے تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

’منیر بھائی، منیر بھائی۔۔۔ چھت پر بندے ہیں۔‘ گھر کے صحن میں چارپائی پر لیٹی ہوئی 35 سالہ خاتون 13 ستمبر سنہ 2023 کی رات کو تقریباً ساڑے بارہ بجے چھت پر کچھ مشکوک لوگوں کو دیکھ کر چیختے ہوئے بھائی کو آوازیں دے رہی تھیں۔

دردانہ بی بی کچھ روز قبل ہی شیخوپورہ تھانہ صدر کی حدود میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ڈیرہ راضی میں اپنے بھائی منیر سے ملنے اپنے بچوں کے ساتھ آئی تھیں۔

رات کے اس وقت بجلی نہیں تھی۔ یہ کچھ ویران سا علاقہ تھا جہاں پاس صرف ایک گھر تھا جبکہ باقی ہر طرف کھیت ہی کھیت۔

ویلڈنگ کا کام کرنے والے منیر مسیح بہن کی آواز سن کر ہڑبڑا کر اٹھے لیکن اسی دوران چہرے ڈھانپے ہوئے چھ مسلح افراد چھت سے ہوتے ہوئے صحن میں اتر چکے تھے۔ کچھ ہی دیر میں انتظار کی کن پٹی پر بندوق تانی جا چکی تھی۔

ان چھ افراد میں ناصر شاہ، عمران شاہ، وسیم، نعیم، وکرم اور طیب قریبی رشتہ دار تھے۔ وکرم اور طیب سگے بھائی جبکہ نعیم اور وسیم بھی سگے بھائی تھے۔

مسلح لوگوں میں سے کچھ نے دردانہ اور منیر کی بیوی پر بھی پستول تان لی، جو صحن میں ہی بچوں سمیت سو رہی تھیں۔

’اگر تم میں سے کسی نے آواز نکالی یا شور کیا تو گولی مار دیں گے۔۔۔‘ اس دھمکی سے گھر میں موجود تمام لوگ گھبرا گئے اور مکمل خاموشی چھا گئی۔

منیر مسیح کہتے ہیں کہ ’وہ رات میری زندگی کی سب سے خوفناک رات تھی۔‘ لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

منیر مسیح کے مطابق مسلح افراد نے پہلے ان کے جواں سال بچوں سمیت سب گھر والوں کو باندھ دیا اور پھر ان کی بیوی سے کمرے میں پڑی الماری کی چابی کا مطالبہ کیا۔

’الماری کی چابی میری بیوی کی بنیان کے ساتھ بندھی ہوئی تھی اور کھل نہیں پا رہی تھی جس کی وجہ سے ملزمان انھیں اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے جہاں الماری پڑی ہوئی تھی۔‘

منیر نے کہا کہ تھوڑی دیر بعد دو ملزمان ان کی بیوی کو ہمسائے میں موجود گھر لے گئے جہاں دونوں نے باری باری ان کا ریپ کیا۔

اس دوران منیر کو ایک چارپائی کے ساتھ باندھا جا چکا تھا۔ اسی اثنا میں دو ملزمان ان کی بہن کو ویلڈنگ کی دکان میں لے گئے جہاں ان کے ساتھ بھی ریپ کیا گیا۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’خدارا میری بیٹی کو چھوڑ دو، وہ ابھی بہت چھوٹی ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منیر نے مزید بتایا کہ جیسے ہی ان کی بیوی کو لے کر دونوں ملزمان واپس گھر پہنچے تو انھوں نے ان کی 12 سالہ بیٹی کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔

’تم لوگوں نے جو کچھ بھی کرنا تھا میرے ساتھ کر لیا، مزید کرنا ہے تو میرے ساتھ کر لو لیکن خدارا میری بیٹی کو چھوڑ دو، وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔‘

منیر مسیح کے مطابق ان کی بیوی نے گڑگڑاتے ہوئے ملزمان سے اپیل کی جس کے بعد دو لوگ انھیں دوبارہ کمرے میں لے گئے اور باری باری ریپ کیا۔

منیر مسیح کے مطابق ان کی بہن اور بیوی کے ساتھ پانچ ملزمان نے چھ مرتبہ ریپ کیا۔ ’یہ سب پلک چھپکنے کے دوران ہوا تھا، جس کی وجہ سے کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اچانک گھر میں کیا ہوا۔‘

ایک سوال کے جواب میں منیر مسیح نے بتایا کہ ان کے ہمسائے، جن کا تعلق ان کی ہی برادری سے ہے، نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی بیوی کے ساتھ ریپ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

منیر مسیح نے بتایا کہ ’ملزمان پوری چھان بین کر کے آئے تھے۔ ہمارے دونوں گھر گاؤں سے ذرا ہٹ کے ہیں اور باہر کی دیواریں بھی اونچی ہیں جن پر چڑھنے کے لیے وہ ایک سیڑھی بھی ساتھ لائے تھے۔‘ وہ سیڑھی اب بھی منیر کے گھر میں موجود ہے۔

منیر مسیح کے مطابق دوران ڈکیتی ملزمان ان سے یہ بھی پوچھتے رہے کہ ’تمھارے جس بچے کے پاس ٹچ فون ہے وہ کدھر ہے۔‘ منیر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ’ہمارے گھر کے متعلق کافی معلومات تھیں۔‘

واردات کے بعد ملزمان بار بار منیر مسیح اور ان کی بیوی پر زور دیتے رہے کہ وہ انھیں گاؤں کے کسی دوسرے گھر لے چلیں اور ان کا دروازہ کھلوائیں تاکہ وہ وہاں بھی لوٹ مار کر سکیں۔

منیر مسیح کے مطابق وہ مسلسل ان کی منت سماجت کرتے رہے کہ وہ یہاں نئے آئے ہیں اور کسی کو نہیں جانتے تو کیسے کسی دوسرے کا درازہ کھلوا سکتے ہیں۔

ڈکیت تقریباً دو گھنٹے تک منیر مسیح کے گھر رہے اور پھر نقدی، ٹی وی اور دیگر چیزیں ایک رکشہ پر رکھ کر فرار ہو گئے۔

victim

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میری بہن مجھے ملنے آئی، اب کیا منھ دکھاؤں گا‘

منیر نے ہمیں بتایا کہ ’جب وہ چلے گئے تب مجھے میری بیوی اور بہن نے بتایا کہ ان کے ساتھ متعدد بار ریپ کیا گیا ہے۔

’اب بتائیں میری بہن جو مجھ سے ملنے آئی ہوئی تھیں انھیں ساری زندگی کیا منھ دکھاؤں؟ میں نے یا میرے گھر والوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو ہماری خواتین کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔‘

اس واقعے کی رپورٹ کروانا بھی منیر مسیح کے لیے آسان نہیں تھا۔ ان کے بہنوئی نے پولیس رپورٹ کرانے سے منع کر دیا کہ ’لوگ کیا کہیں گے، کون تھانے اور کچہریوں میں ملزمان کے پیچھے بھاگتا پھرے۔‘

تاہم منیر مسیح کے گاؤں کے ایک پولیس اہلکار سے ان کی واقفیت تھی۔ ’اسے سارا واقعہ بتایا، جس نے پولیس کو اطلاع دی جو موقع واردات پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے، جس کے بعد باقاعدہ کیس بھی درج ہو گیا۔‘

بی بی سی کو ایسے ہی ایک اور واقعے کی ایف آئی آر تک رسائی ملی جو شیخوپورہ کے تھانہ فیکٹری ایریا میں 29 جون 2022 کو درج ہوئی۔

اس مقدمے میں بھی ندیم مسیح نامی شخص، جو کہ نئی آبادی جناح ٹاؤن، نبی پور ورکاں کا رہائشی ہے، کے گھر میں اسی طرح ڈکیتی ہوئی جس کے دوران ملزمان نے ان کی بیوی کے ساتھ ریپ کیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان بار بار انھیں بھی مجبور کرتے رہے کہ کسی ہمسائے کا دروازہ کھلوائیں تاکہ وہ مزید لوٹ مار کر سکیں۔ اس واقعے میں چار ملزمان ملوث تھے، جن میں ایک عمران شاہ نامی نامزد ملزم بھی تھا۔

پولیس مقابلہ

ڈکیتی کے ملزمان ’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک

ڈکیتی اور ریپ کے ان دو کیسز میں ملوث پانچ ملزمان 14 اکتوبر 2023 کو تھانہ صدر شیخوپورہ کی حدود میں واقع مال منڈی مویشیاں کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کی درج ایف آئی آر کے مطابق ’کم از کم آٹھ مسلح اہلکار ایک پولیس موبائل وین میں ریپ اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث پانچ گرفتار ملزمان بشمول محمد نعیم، وسیم، محمد عمران، طیب اور وکرم الحسنین کو مال مسروقہ کی برآمدگی کے لیے لے جا رہے تھے کہ اچانک ملزمان کے آٹھ سے 10 مسلح ساتھیوں، جو چار موٹر سائیکلوں اور ایک کار پر سوار تھے، نے پولیس موبائل کو روکا اور تمام مسلح پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر ہتھکڑیوں میں جکڑے اپنے ساتھیوں سمیت بائی پاس کے پاس مال منڈی مویشیاں کی طرف فرار ہو گئے۔‘

14 اکتوبر 2023 کو تھانہ صدر شیخوپورہ میں پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’وائرلیس پر پولیس پارٹی کو اطلاع دی گئی اور مزید نفری مال منڈی مویشیاں منگوائی گئی، جہاں ملزمان کو گھیرے میں لے لیا گیا لیکن اسی دوران انھوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی جو کہ 20 سے 25 منٹ تک جاری رہی۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’جب فائرنگ کا تبادلہ تھما تو پولیس نے ٹارچ کی مدد سے جا کر دیکھا کہ پانچوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے۔‘

منیر مسیح کو بھی یہ اطلاع پولیس سے ہی ملی۔

منیر کے مطابق پولیس نے دو تین مرتبہ انھیں تھانے بلایا تھا جہاں ان کے گھر سے چرائے ہوئے فون اور دیگر سامان کی شناخت ہوئی۔

منیر مسیح کے مطابق انھیں ایک روز جیل بھی بلوایا گیا جہاں ان کی بیوی اور بہن نے بھی تمام ملزمان کی شناخت کی تھی۔

’ملزمان متعدد دیگر مقدمات میں بھی مطلوب تھے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ زاہد نواز مروت کا کہنا تھا کہ ملزمان کا گروہ انتہائی چالاکی سے اپنا ٹارگٹ چنتا تھا اور پھر ڈکیتی کے بہانے گھروں میں گھس کر خواتین کے ساتھ ریپ کرتا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق ’یہ گروہ ایک رکشے میں سوار ہوکر مختلف جگہوں کا معائنہ کرتے تھے اور پھر اپنا ٹارگٹ چُنتے تھے۔ ان کا ٹارگٹ ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے افراد ہوتے تھے جو پولیس کے پاس قانونی کارروائی کے لیے جانے سے بھی ڈرتے تھے۔‘

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ’اب تک دو مسیحی خاندان سامنے آ چکے ہیں، جن کی خواتین کے ساتھ اس گروہ نے دوران ڈکیتی ریپ بھی کیا تھا۔ مزید بھی کئی اور ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگ عزت کی خاطر اور ڈر خوف سے بھی سامنے آ کر پولیس کو سچ نہیں بتاتے۔‘

پولیس کی تحقیق کے مطابق یہ گروہ شیخوپورہ کی حدود میں ڈیڑھ دو کلومیٹر کے علاقے میں ہی ایسی وارداتیں کر رہا تھا۔

زاہد نواز مروت کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی محنت کے بعد اس گروہ کا سراغ لگایا اور انھیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ڈی پی او شیخوپورہ زاہد نواز مروت کے مطابق تمام ہلاک ملزمان پر کئی اضلاع میں متعدد ریپ، ڈکیتی، چوری اور دیگر جرائم کے تحت مقدمات درج تھے اور ان کا ناصرف ڈی این اے میچ ہوچکا تھا بلکہ شناخت پریڈ بھی مکمل ہو چکی تھی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق نعیم پر اس سے قبل 12 ایف آئی آرز درج تھیں جبکہ طیب پر آٹھ، وکرم پر 13، وسیم پر سات اور عمران پر نو ایف آئی آرز درج تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ جعلی پولیس مقابلہ تھا‘

دوسری طرف ہلاک ہونے والے مرکزی ملزم کی بیٹی اس پولیس کارروائی کو ’جعلی‘ قرار دیتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا پولیس مقابلہ تھا، جس میں کوئی ایک پولیس والا ہلاک یا زخمی نہیں ہوا لیکن گرفتار تمام پانچ ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’پولیس نے بڑا ظلم کیا ہے۔ میرے والد، دو ماموں اور دو پھوپھا زاد بھائیوں کو پولیس نے ناجائز مار دیا ہے۔ میرے آٹھ بہن بھائی ہیں، ہم سب یتیم ہو گئے ہیں، گھر میں کمانے والا کوئی نہیں اب ہم کدھر جائیں؟‘

بیٹی کے مطابق پولیس نے ان پانچوں لوگوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا اور بعد میں ان کا ریمانڈ بھی لیتے رہے۔ ’پھر ایسی کون سی بات تھی کہ رات کے دو بجے برآمدگی کے لیے انھیں لے کر کہیں جا رہے تھے۔‘

ملزمان کی لاشیں ان کے گھر بھجوائی گئیں تو بیٹی نے دعویٰ کیا کہ ’جسموں پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔‘

بیٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے 65 سالہ ایک چچا اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

ریپ مقدمات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہلاک ہونے والا گینگ صرف مسیحی خواتین کا ریپ کرتا تھا‘

ان پانچ ملزمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’اب تک کی تفتیش سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ شیخوپورہ میں انکاؤنٹر کے دوران مارا جانے والا گینگ صرف اور صرف مسیحی خاندانوں کی خواتین کو ریپ کرنے کے لیے ہی ٹارگٹ کرتا تھا۔‘

پولیس افسر کے مطابق شیخوپورہ میں درج ریپ اور ڈکیتی کے کیسز کا بغور مشاہدہ کیا گیا ہے اور ڈی این اے، برآمد سامان، موبائل فون، جیو فینسنگ اور دیگر شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انھی ملزمان نے اب تک سامنے آنے والے دونوں مسیحی خاندانوں کی خواتین کو دوران ڈکیتی ریپ بھی کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ بتائیں جب تمام شواہد سامنے آجائیں، صرف زبانی شہادتیں نہیں بلکہ فارنزک شہادتیں اور ڈی این اے بھی تو پھر ایسے ملزمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، جو مجبور اور لاچار لوگوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔‘