محبت میں دھوکے کی کہانی: ’مجھ سے شادی بھی نہیں کی اور بہن کا ریپ کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہSUPRABHAT DUTTA
- مصنف, بھارگوا پاریکھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز گجراتی
انڈیا کی گجرات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے ایک ایسا معاملہ آیا ہے جس میں محبت کے نام پر دھوکہ کھانے والی متاثرہ لڑکی نے اپنا چھ ماہ کا حمل ضائع کروانے کی اجازت طلب کی ہے۔
اس متاثرہ لڑکی، جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا، نے ناصرف ملزم سے محبت میں دھوکہ کھایا بلکہ ملزم نے لڑکی کی چھوٹی بہن کو بھی (مبینہ) ریپ کا نشانہ بنایا۔
یہ معاملہ شروع ہوا انڈیا کی ریاست گجرات کے ضلع بھروچ سے جہاں ایک شادی شدہ مرد سے محبت کے نام پر دھوکہ کھانے والی لڑکی حاملہ ہو گئی تھی تاہم حقیقت کھلنے پر غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی انصاف کی تلاش میں سپریم کورٹ پہنچ گئی اور ساتھ ہی اپنے چھ ماہ کے حمل کو ضائع کروانے سے متعلق بھی قانونی جنگ لڑی۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے اس کیس کی فوری سماعت کرتے ہوئے اسقاط حمل کی اجازت دی اور گجرات ہائی کورٹ کو بھی حکم دیا کہ وہ اس معاملے میں متاثرہ لڑکی کی حالت اور مستقبل کو مد نظر رکھ کر جلد فیصلہ کرے۔
متاثرہ لڑکی کا تعلق ایک قبائلی خاندان سے ہے اور مالی مشکلات کے باعث ان کے لیے ملک کی اعلیٰ عدالت تک رسائی آسان نہ تھی۔
تاہم ان کی مدد کے لیے ایک مقامی قانونی ادارہ سامنے آیا جس کے بعد متاثرہ لڑکی اسقاط حمل کی اجازت کے لیے پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں درخواست دینے میں کامیاب ہوئی۔
محبت میں جھانسے کی یہ کہانی شروع کیسے ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گجرات کے ضلع بھروچ کے ایک گاؤں میں رہنے والی متاثرہ لڑکی کے خاندان میں والدین کے علاوہ ایک چھوٹی بہن ہیں، جو دسویں جماعت میں پڑھتی ہیں۔ ان کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جو پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔
متاثرہ لڑکی 12ویں جماعت تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں میں محنت مزدوری کرنے لگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گاؤں سے کام کی جاہ تک پہنچنے کے لیے کبھی سرکاری بسوں اور پرائیویٹ ٹیکسیوں کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔
بی بی سی گجراتی سے بات چیت میں متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’پرائیویٹ ٹیکسی کا کرایہ سرکاری بس کے کرایے سے کم تھا، اس لیے میں نے ہر روز ٹیکسی میں کام پر آنا جانا شروع کردیا۔‘
لڑکی کے مطابق اس دوران ان کا تعارف ملزم سے ہوا، جو ان کے علاقے میں پرائیویٹ ٹیکسی چلاتا تھا اور دونوں کے درمیان ’محبت‘ ہو گئی۔
متاثرہ لڑکی نے کہا کہ ’ہمیں ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ ہم دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کہا کہ ہم والدین کی رضامندی سے شادی کریں گے اور وہ مان گیا۔ میں نے اپنے والدین سے بات کی اور وہ ہماری شادی پر راضی ہو گئے۔‘
تاہم ملزم نے یہ حقیقت چھپائی کہ وہ خود پہلے سے ہی شادی شدہ ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکا متاثرہ لڑکی کے والدین کی جانب سے شادی کی منظوری ملتے ہی ان کے گھر رہنے چلا آیا۔
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’اس (ملزم) نے مجھے بتایا کہ اس کے گھر والے شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے اس نے اپنا گھر چھوڑ دیا ہے۔ اس نے کہا کہ جب اس کے والدین شادی کے لیے تیار ہوں گے تو ہم شادی کریں گے۔ پھر وہ ہمارے ساتھ گھر میں ہمارے ساتھ خاندان کے ایک فرد کی طرح رہنے لگا۔‘
لڑکی کے مطابق ’مجھے بھی یقین تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرے گا، اس لیے ہم میاں بیوی کے طور پر رہنے لگے۔ تھوڑے عرصے بعد جب میں حاملہ ہوئی تو اس نے مجھے یقین دلایا کہ اب اس کے والدین شادی کے لیے راضی ہو جائیں گے۔‘
تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود ملزم نے شادی کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
’وہ مجھے اپنی بہن کے گاؤں لے گیا اور ہم ایک ہفتہ تک اس کی بہن کے گھر رہے۔ وہاں ہم نے اس کی بہن سے بات کی کہ ہم شادی کرنا چاہتے ہیں اور پھر ہم واپس میرے والدین کے گھر آ گئے۔‘
’بہن کو دھمکی دی کہ زبان کھولی تو بھائی کو قتل کر دے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متاثرہ لڑکی نے شادی کا جھانسہ دینے والے ملزم پر اپنی چھوٹی بہن سے بھی ریپ کا الزام عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایک دن جب میری بہن سکول کے لیے تیار ہوئی تو وہ (ملزم) میری بہن کو سکول چھوڑنے کے بہانے لے گیا اور پھر اسے ایک ویران جگہ لے گیا جہاں ڈرا دھمکا کر اس نے میری بہن کا ریپ کیا اور ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے کسی سے اس واقعے کی شکایت کی تو وہ ہمارے چھوٹے بھائی کو قتل کر دے گا اور مجھے چھوڑ دے گا۔‘
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’میری بہن نے خوفزدہ ہو کر چپ سادھ لی۔‘
متاثرہ لڑکی کے مطابق ان کی بہن نے خوف کی وجہ سے ایک ہفتے تک کسی کو اس واقعے کے بارے میں نہیں بتایا۔ لیکن پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے ان کی ماں چھوٹی بیٹی کو بھروچ کے سرکاری ہسپتال لے گئیں۔
متاثرہ لڑکی نے کہا ’وہ (ملزم) میری ماں اور چھوٹی بہن کو لے کر ہسپتال گئے تھے۔ تاہم ماں اور بہن کو ہسپتال چھوڑنے کے بعد وہ کام کے بہانے فرار ہو گیا۔ جب ڈاکٹر نے میری بہن کا معائنہ کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔‘
متاثرہ لڑکی کے مطابق جب ان کی بہن نے سب کچھ بتایا تو انھوں نے لڑکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس نے اپنا فون بند کر دیا۔
بعد میں جب ملزم کے گاؤں میں تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ کر متاثرہ لڑکی کے ساتھ رہ رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریپ کا شکار ہونے والی چھوٹی بہن ہسپتال میں زیر علاج
اس مشکل میں اس غریب خاندان کی مدد کے لیے سماجی کارکن پریمیلا بیہن ورمورا سامنے آئیں اور متاثرہ لڑکی کی جانب سے ملزم کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرانے اور اسقاط حمل کے لیے قانونی کارروائی میں مدد کی۔
پرمیلا ورمورا نے بی بی سی کو بتایا ’وہ خاندان بہت خوفزدہ تھا اور پولیس بھی شکایت درج کرنے کو تیار نہیں تھی۔ بڑی بہن کو حاملہ کرنے والے ملزم نے اس کی چھوٹی بہن کو اس قدر خوفزدہ کیا تھا کہ اس نے ایک ہفتے تک ملزم کے خلاف اپنی زبان تک نہ کھولی یہاں تک کے انفیکشن کے باعث اس سے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور اسے ہسپتال جانا پڑا۔‘
واقعہ کی تحقیقات کرنے والے جنگیا تھانے کے پولیس انسپکٹر بی ایس سیلانا نے بی بی سی کو بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد انھوں نے تحقیقات کی ہیں۔
’ملزم جو ٹیکسی چلا رہا تھا وہ اس کی اپنی نہیں تھی بلکہ اس نے کرائے پر لی تھی۔ شادی کا لالچ دے کر بڑی بہن کو حاملہ اور چھوٹی بہن کو ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔ ہم نے تفتیش کرتے ہوئے ملزم کو ایک گاؤں سے گرفتار کیا ہے اور اس پر POCSO (جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی فی الحال ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اسے پہنچنے والے ذہنی صدمے سے نمٹنے کے لیے اس کی کونسلنگ کی جا رہی ہے۔‘
’میری بہن کی شادی میں بھی مسائل پیدا ہوں گے‘
محبت اور شادی کے وعدے پر دھوکہ دہی کا شکار ہونے والی لڑکی نے کہا کہ ناصرف ان کا بلکہ ان کی بہن کا جینا بھی اب مشکل ہو گیا ہے۔
’اب وہ (ملزم) مجھ سے شادی نہیں کرے گا۔ میری بہن کی شادی میں بھی مسائل پیدا ہوں گے۔ میرے والدین اور کزنز نے مجھے اسقاط حمل اور دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس لیے میں نے اتنا مشکل فیصلہ کیا۔‘
ہسپتال نے متاثرہ لڑکی کا اسقاط حمل کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسقاط حمل کے لیے قانون کی طرف سے تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ 24 ہفتوں کی مدت گزر چکی تھی۔ یوں یہ معاملہ پہلے گجرات ہائی کورٹ اور پھر انڈیا کی سپریم کورٹ تک پہنچا۔
اس سارے معاملے کی قانونی جنگ لڑنے والی پریمیلا ورمورا کا کہنا ہے کہ ’جب ہمیں معلوم ہوا کہ بڑی بہن کو شادی کا لالچ دیا گیا اور وہ بچہ نہیں چاہتی تھی، تو ہم نے سرکاری ہسپتال میں اس کا اسقاط حمل کروانے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ وقت بہت گزر چکا تھا اس لیے ہسپتال عدالت کی منظوری کے بغیر ابارشن نہیں کر سکتا تھا۔‘
’ہم گجرات ہائی کورٹ گئے، وہاں بھی ہمیں حمل ضائع کرنے کی اجازت نہیں ملی اس لیے ہم نے سپریم کورٹ کے سامنے سارا معاملہ رکھا اور عدالت عظمیٰ نے اس نازک معاملے میں 28 ہفتے کے حمل کو ضائع کرنے کی خصوصی اجازت دے دی۔
بھروچ سول ہسپتال کے ڈاکٹر دیپیکا مکھیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہم نے 22 اگست کو ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کے ساتھ یہ ابارشن کیا جس کے بعد 24 اگست کو انھیں ہسپتال سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے۔‘











