انڈیا میں معاشی بائیکاٹ کی کال سے متاثرہ مسلمان: ’کروڑوں کمانے والے پھلوں کے ٹھیلے لگا رہے ہیں‘

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، نئی دہلی

جب انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں اہلیہ نگر ضلع کے مادھی گاؤں کی پنچایت نے سالانہ کانیف ناتھ مہاراج یاترا کے موقع پر مسلمان دکانداروں کی شرکت پر پابندی لگائی تو وہاں کے مقامی سرکاری اہلکار نے پنچایت کی اس قرارداد کو ’غیر قانونی‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔

لیکن ریاست کے ایک وزیر نتیش رانے نے اس قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ سرکاری اہکار کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’ریاست میں ایک ہندوتوا کی حکومت ہے۔‘

یہ سالانہ مذہبی میلہ مارچ کے وسط میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میں ضلع اور پوری ریاست سے ہزاروں ہندو زائرین اور تاجر شرکت کرتے آئے ہیں جہاں تمام برادریوں کے لوگ سٹال لگا کر مختلف اشیا فروخت کرتے ہیں۔

مادھی گاؤں کی آبادی تقریبآ پانچ ہزار ہے جس میں 650 مسلمان بھی شامل ہیں۔ گاؤں کی منتخب پنچایت نے 22 فروری کو یہ فیصلہ کیا کہ اس مذہبی یاترا میں مسلم تاجروں کو کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس قرارداد میں کہا گیا کہ یاترا کے دوران ’ہندو روایتوں کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مسلم تاجر ہندو مذہبی رسم و رواج و روایات پر عمل نہیں کرتے اس لیے ان کی شرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔‘

گذشتہ جنوری میں دریائے گنگا و جمنا کے سنگم پر مہا کمبھ کے آغاز سے قبل ہندو سادھوؤں کی ملک کی سب سے بڑی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد نے کمبھ کے ایک مہینے کے اجتماع کے دوران مسلمانوں کو میلے کی حدود میں داخل نہ ہونے دینے کی کال دی تھی۔

اس میلے میں اس سے پہلے دکانیں اور سٹال وغیرہ لگانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی۔ اسی طرح کی ایک کال متھرا بھی سے آئی جس میں مسلمانوں کو ہولی کے تہوار سے باہر رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔

مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ کے اثرات

انڈیا میں پچھلے کچھ سالوں سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کی طرح طرح کی ویڈیوز اور اپیلیں جاری کی جاتی رہی ہیں۔

سخت گیر ہندو تنظیموں اور حکمراں جماعت بی جے پی سے وابستہ مقامی رہنما مسلمانوں کو دکان اور مکان کرائے پر نہ دینے اور ان سے خرید و فروخت نہ کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

سماجی اور افتصادی بائیکاٹ کی مہم کا مسلمانوں کے کاروبار پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

ہر برس لاکھوں ہندو زائرین پورے ملک سے زیارت کے لیے ہندوؤں کے مقدس شہر ہری دورار آتے ہیں۔ راستے میں مغربی اتر پردیش کا شہر مظفر نگر ہے جہاں دور دراز سے طویل سفر کے بعد پہنچنے والے زائرین شاہراہ پر واقع ریستورانوں اور ہوٹلوں میں کھانے اور ٹھہرنے کے لیے رُکتے آئے ہیں۔ شاہراہ پر واقع ریستورانوں اور ہوٹل مالکان کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔

ہندو زائرین کا خیال رکھتے ہوئے بیشتر ریستوران میں صرف ویجیٹیرین کھانا ہی پیش کیا جاتا ہے۔ ان ریستورانوں میں بیشتر ملازمین اور باورچی ہندو ہیں۔

ریستوران مالکوں نے اپنے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے نام بھی ہندو طرز پر رکھ لیے ہیں۔ لیکن پچھلی یاترا سے پہلے بعض مقامی ہندو رہنماؤں اور تنظیموں کی مہم کے بعد اتر پردیش کی حکومت نے حکم جاری کیا کہ دکانوں کے سائن بورڈ پر اصل مالکوں کے نام لکھے جائیں۔

انتظامیہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ قدم سکیورٹی اور شفافیت کے لیے اٹھایا گیا ہے لیکن اس عمل کا مقصد بظاہر دکانوں کے مالکوں کی مذہبی شناخت اجاگر کرنا تھا۔

نام لکھنے کے ساتھ ساتھ کئی جگہ یہ مہم بھی شروع ہو گئی کہ ہندوؤں کے مقدس مقامات اور زائرین کے راستے میں مسلمانوں کو کاروبار نہ کرنے دیا جائے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ریستورانوں اور ہوٹلوں پر پڑا ہے۔

’مسلم ملکیت والے میٹ پلانٹ بند پڑے ہیں‘

مظفر نگر کے مقامی ہندو دکاندار گورو گپتا دوکانوں کے بورڈ پر نام لکھنے کو صحیح ٹھہراتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہندو زائرین کا راستہ ہے۔ لوگ ہری دورار، گنگوتری اور یمنوتری اسنان کے لیے جاتے ہیں۔ کئی لوگ چاہتے ہیں کہ جب وہ اسنان کرنے جاتے ہیں تو انھیں اچھا شدھ اور صحیح کھانا ملے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ نام لکھا رہے گا تو آسانی رہے گی کہ انھیں کہاں رکنا ہے کہاں نہیں رکنا ہے۔‘

یہ سلسلہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں، سبزی فروشوں اور کاروبار کرنے والے مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

گوشت کا کاروبار ایک ایسا بزنس ہے جس سے روایتی طور پر لاکھوں مسلمان وابستہ ہیں۔

اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد بیشتر سلاٹر ہاؤسز غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیے گئے۔ ریاست میں مسلم ملکیت والے میٹ کے بڑے بڑے ایکسپورٹنگ پلانٹ مختلف وجوہ سے بند پڑے ہیں۔ میرٹھ کے محمد عمران یعقوب قریشی کا کروڑوں روپے کا پلانٹ چھ برس سے بند پڑا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری سالانہ آمدنی ایک ہزار کروڑ روپے تک ہوتی تھی۔ 1500 سے 2 ہزار لوگ ہماری کمپنی میں کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سپلائر اور مزید 15 سے 20 ہزار لوگ بالواسطہ طور سے وابستہ تھے۔ وہ سب متاثر ہوئے ہیں۔ وہ سب بے روزگار ہوگئے اور مجبوری میں پھلوں کے ٹھیلے لگا رہے ہیں۔‘

حابی یوسف قریشی بھی میٹ پلانٹ کے مالک ہیں۔ یہ پلانٹ بھی بند پڑا ہے۔ وہ آل انڈیا جمعیت القریش کے جنرل سکریٹری بھی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ یہ مسلمانوں کو اقتصادی نقصان پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ پالیسی یوں لگتی ہے کہ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی اسی کاروبار پر قدغن لگے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اس سے مسلمانوں کو کاروبار ملا ہوا ہے۔‘

’ان کو معلوم تھا کہ اس سے مسلمانوں کے پاس غیر ملکی کرنسی آ رہی ہے، ان میں خوشحالی آ رہی ہے۔ ان میں تعلیم آ رہی ہے۔ وہ انھیں پسند نہیں تھا۔‘

چھوٹی چھوٹی دکانوں پر گوشت فروخت کرنے والے دکاندار سلاٹر ہاؤسز بند ہونے اور لائسنسس کی تجدید میں مشکلوں سے الگ پرشان ہیں۔

ایک دکاندار نے بتایا کہ ’پہلے بہت اچھا تھا۔ لیکن اب بس جیسے تیسے ہمارا کاروبار چل رہا ہے۔ بس جینے بھر کا کام کر لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے لیے کچھ نہیں ہے۔‘

حکمراں جماعت بی جے پی سے قریب سمجھے جانے والے دائیں بازو کے ماہر اقتصادیات اور دانشور داگٹر شبھرو کمل دتا کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے مذہبی مقامات اور زائرین وغیرہ کے راستوں پر اپنی دکانوں اور ہوٹلوں وغیرہ کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں اور ہندو طرز کے ناموں پر نہیں رکھنے چاہییں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جو لوگ غیر قانونی طریقے سے اپنا کام کریں گے، اپنی شناخت چھپائیں گے، جو لوگ قانون کے مطابق کام نہیں کریں گے اور جب صحیح شناخت سامنے آ جائے اور قانونی کارروائی کی جائے تو پھر کوئی واویلا نہیں مچنا چاہیے۔‘

ڈاکٹر شبھرو کمل دتا کہتے ہیں کہ ’یہ سوچنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں سے تفریق برت رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت تفریق کی کسی پالیسی میں نہ تو یقین رکھتی ہے اور نہ ہی وہ اس کی حمایت کرتی ہے۔ پوری مسلم برادری کو معیشت سے باہر کر دیا جائے یہ تو ناممکن ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت انڈیا میں 18 سے 20 کروڑ مسلمان ہیں۔ تو کیا ہم اتنی بڑی آبادی کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔ بالکل نہیں۔‘

’مسلمان بھی اس ملک کا ہے اور سب کو برابر کا حق حاصل ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی سب کا وکاس، سب کا پریاس اور سب کا وشواس کی پالیسی لے کر چلتے ہیں۔ حکومت سب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔‘

تاہم لکھنؤ کے تجزیہ کار شرت پردھان کا خیال ہے کہ ’حکومت کا جو رحجان ہے اس سے مسلمانوں میں ایک خوف کا ماحول ہے۔‘

’وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح سوتیلا برتاؤ کیا جا رہا ہے جو کہ ملک کے آئین کے قطعی منافی ہے۔ لیکن یہ کھلے عام ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جن جگہوں پر مسلمانوں میں خوشحالی آ رہی ہے وہاں ان کو افتصادی طور پر کمزور کر دیا جائے تاکہ وہ پھر اپنی غربت کی زندگی میں واپس چلے جائیں۔‘

کمبھ کے میلے میں مسلم دکانداروں پر پابندی کی کال ہو، دکانوں پر نام لکھنے کا حکم ہو یا مقامی ہندو رہنماؤں کی جانب سے جگہ جگہ مسلمانوں کے بائیکاٹ کی مہم، حکومت کی مکمل خاموشی سے ان عناصر کو حوصلہ ملا ہے اور مسلمانوں کی کاروباری مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔