آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’لوو جہاد‘ کا خدشہ: نوراتری کے تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت پر پابندی کیوں؟
- مصنف, بھارگو پاریکھ
- عہدہ, بی بی سی گجراتی
انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے احمد آباد میں ہندو تہوار نوراتری کے موقع پر ایک مسلم نوجوان کو گربا کھیلنے کے دوران مارا پیٹا گیا اور اسے فوراً گربا کی جگہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔
یہ واقعہ احمد آباد کے خوشحال علاقوں میں سے ایک سمجھے جانے والے سندھو بھون میں پیش آيا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہے جبکہ احمد آباد کے سرکھیج تھانے نے نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی ہے۔ حملے کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم نوجوانوں پر حملے کا الزام مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں پر لگایا گیا ہے۔
سرکھیج پولیس سٹیشن کے پی ایس او بھرت پٹیل نے معاملہ کے حساس ہونے کی وجہ سے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔
انھوں نے صرف اتنا بتایا کہ سندھو بھون روڈ پر نامعلوم افراد کی طرف سے اقلیتی برادری کے ایک نوجوان کی پٹائی کا واقعہ پیش آیا ہے، اس معاملے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 323 (زخمی کرنا)، آئی پی سی کی دفعہ 143 (ہجوم کا غیر قانونی اجتماع)، مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دفعہ 147 (فساد) اور دفعہ 294 بی یعنی دو مذاہب کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والے ضحی پورہ کے قریب رہنے والے سلمان شیخ نے اپنی طرف سے پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔ بی بی سی گجراتی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر انھوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
مسلم نوجوانوں اور بجرنگ دل کارکنوں کے درمیان تصادم کے نام پر سرکھیج پولس تھانے میں معاملہ درج کیا گیا ہے، لیکن کئی کوششوں کے بعد بھی تھانے کے پولس انسپکٹر وی اے راباری سے رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے بھی اس معاملے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔
گربا دو سال بعد واپس آیا
کووڈ انفیکشن کی وجہ سے دو سال کے وقفے کے بعد گجرات کے مختلف شہروں میں نوراتری کا تہوار اور گربا رقص بڑے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ اس دوران کچھ تنظیموں نے گجرات میں کئی مقامات پر گربا میں مسلم نوجوانوں کے داخلے پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسا گربا میں 'لوو جہاد' کی سرگرمی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
گربا ایک رقص ہے جو اجتماعی طور پر کیا جاتا ہے اور اس میں لوگ جوڑیوں اور کثیر تعداد میں ایک ساتھ رقص کرتے ہیں جبکہ لو جہاد ہندوتوا تنظیم کی جانب سے لگایا جانے والا الزام ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے اپنے دام محبت میں گرفتار کرتے ہیں۔
دوسری جانب گجرات پولیس کے سربراہ ڈی جی پی آشیش بھاٹیہ نے بی بی سی گجراتی سے بات چیت میں واضح کیا کہ نوراتری اور گربا کے دوران گجرات میں مسلم نوجوانوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
آشیش بھاٹیہ نے کہا: 'نوراتری پر مسلم نوجوانوں پر پابندی لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ احمد آباد میں ایک مسلم نوجوان پر حملے کی شکایت پولیس نے خود درج کی ہے۔ گجرات میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے خصوصی پولیس کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گجرات پولیس کی ٹیم کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ اس معاملے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے خود احمد آباد واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔'
بہرحال سیاسی ماہرین اس طرح کے واقعات کو ہندو مسلم مسئلہ نہیں مانتے لیکن ان کے مطابق ریاست میں اسمبلی انتخابات کے قریب ہونے کے باعث اسے 'شناخت کی سیاست' کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
'ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوششیں'
معروف ماہر سماجیات اور سیاسی تجزیہ کار ودیوت جوشی نے بی بی سی گجراتی سے بات چیت میں کہا کہ یہ معاملہ صرف ہندو مسلم مسئلہ تک محدود نہیں ہے، ایسے واقعات کے پیچھے 'شناخت کی سیاست' ذمہ دار ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'شناخت کی سیاست' گجرات میں سنہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی۔ مذہب اور ذات پات کے نام پر دوسری برادریوں کو نیچا دکھا کر اس میں اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جوشی نے اس سیاست کے خلاف لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سیاست خطرناک ہے۔ 'شناخت کی سیاست' اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے دوسروں کی تذلیل کرکے لوگوں کو اپنے حق میں لانے کی کوشش ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
گجرات کے ثقافتی پس منظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں: 'گجرات میں زیادہ تر نوراتری ڈانڈیا مسلمان ہی بناتے ہیں۔ ماتا جی (ہندو دیوی) کی سجاوٹ کرنے میں بھی مسلمان شامل ہوتے ہیں۔ سنہ 1990 کی دہائی سے پہلے گربا میں مسلمانوں کے داخلے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ 'شناخت کی سیاست' مضبوط ہوتی گئی۔ اب یہ مسئلہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کا نہیں ہے، اب پارٹیاں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر نئی سیاست کر رہی ہیں۔'
'آئیڈنٹیٹی پالیٹکس' یا 'شناخت کی سیاست' کی بدلتی ہوئی صورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ودیوت جوشی کہتے ہیں: 'اب ناانصافی کے نام پر دلتوں، قبائلیوں، او بی سی (دیگر پسماندہ) ذاتوں کی ایک تحریک چلائی جا رہی ہے اور 'شناخت کی سیاست' کھیلی جا رہی ہے۔ ماضی قریب میں لوگوں نے ذات پات پر مبنی تنظیمیں بنائی ہیں اور مخصوص ذات پات کے مسائل پر تحریک چلائی ہے اور فوری فائدہ اٹھانے کے لیے سیاست میں داخل ہوگئے ہیں۔'
'اس طرح کی سیاست برسوں سے جاری ہے'
سیاسی تجزیہ کار گھنشیام شاہ نے بی بی سی گجراتی کو بتایا: 'شناخت کی سیاست' برسوں سے (زیریں لہر کی طرح) سطح کے نیچے چل رہی تھی، اب یہ سامنے آ رہی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایسے واقعات عام دنوں کی نسبت انتخابی سالوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔'
گربا میں شرکت پر پابندی کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 'اس طرح کے معاملات انتخابات کے دوران بڑھ جاتے ہیں۔ صرف مسلمان ہی نہیں، دلتوں کا بھی نوراتری کے دوران کئی جگہوں پر بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ یہ 'شناخت کی سیاست' ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن اب یہ مضبوط ہو گئی ہے۔ پہلے یہ سطح کے نیچے تھی لیکن اب یہ سطح پر آ گئی ہے کیونکہ یہ سیاسی طور پر فائدہ مند ہے۔'
وشو ہندو پریشد کے ترجمان دکش مہتا نے بی بی سی گجراتی کو بتایا: 'ہم ایسی سرگرمیاں کسی سیاست کے لیے نہیں کرتے۔ کچھ مسلمان برسوں سے نوراتری جیسے تہوار کو 'لو جہاد' کے ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، ہم اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ مہم سنہ 1985 سے چلا رہے ہیں۔'
گربا میں شرکت کے لیے ایک مسلم نوجوان پر حالیہ مبینہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'احمد آباد میں بجرنگ دل کے کارکنان لوگوں کو داخلے کی اجازت دینے سے پہلے ماتھے پر تلک لگا رہے تھے۔ اس وقت کچھ لوگ چھپ چھپ کر لڑکیوں کی تصویریں لے رہے تھے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو ان میں ہاتھا پائی ہو گئی، لڑکیوں کی تصویریں ان کے موبائل سے ڈیلیٹ کر دی گئیں اور انھیں وارننگ دے کر وہاں سے جانے کو کہا گیا، اس میں کوئی سیاست نہیں، یہ صرف 'لو جہاد' کو روکنے کی کوشش تھی۔'
سخت گیر ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل کے ترجمان جولت مہتا نے گربا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی اور وائرل ویڈیو پر تنظیم کے خلاف الزامات کے بارے میں کہا: 'ہم کسی سیاست میں نہیں ہیں، لیکن ہم 'لو جہاد' کو روکنے کے لیے سرپرائز چیک کرتے ہیں۔ گربا دو سال بعد ہو رہا ہے۔ ہم جانتے تھے کہ 'لو جہاد' کی سرگرمیوں کے منظر عام پر آنے کے امکانات ہیں۔ اس لیے نوراتری سے پہلے ہم نے خبردار کیا تھا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ گربا میں داخل نہ ہوں اور ہم بہنیں جو گربا گاتی ہیں ان لوگوں سے دور رہیں۔
یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ 'گجرات فریڈم آف ریلیجن (ترمیمی) ایکٹ-2021' کو مبینہ طور پر 'اینٹی لو جہاد ایکٹ' سمجھا جاتا ہے۔
تاہم اس کی شق 3 سمیت بعض ترمیم شدہ شقوں کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ ایکٹ کی دفعہ 3 جس میں 'جبری تبدیلی کی ممانعت' کی نئی تعریف کی گئی تھی،اس ترمیم کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل کمل ترویدی نے حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا: 'بین المذاہب شادی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جبری تبدیلی کی تعریف میں ترمیم کی گئی ہے اور اسے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں شادی لفظ آیا ہے، جسے لوگ اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
وائرل ویڈیو اور مسلم نوجوان پر مبینہ حملے کے حوالے سے جماعت علماء کے ترجمان اسلم قریشی نے کہا کہ جب ہم تمام مذاہب کی برابری پر یقین رکھتے ہیں تو گربا سے محبت کرنے والے مسلم نوجوانوں پر اس طرح حملہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات سے گجرات کا ماحول خراب ہوگا۔ اسے روکا جانا چاہیے۔ بہت سی مسلم لڑکیاں بھی گربا میں جاتی ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں، صرف لڑکوں کو روکنا مناسب نہیں ہے۔'
احمد آباد کی رہائشی شبانہ منصوری کی شادی ایک ہندو سے ہوئی ہے۔ وہ اپنے تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں: 'میں نے شادی کے بعد بھی اپنی کنیت تبدیل نہیں کی ہے۔ میں اور میرے شوہر اکثر گربا میں جاتے ہیں۔ جب ہم کالج میں تھے تو ہم وہاں راس-گربا مقابلے میں حصہ لیا کرتے تھے۔ ہم گربا کیا کرتے تھے۔ ہم ایک گربا کے دوران ملے، پھر محبت ہو گئی اور ہم نے شادی کر لی، شادی کو بھی 21 سال ہو گئے ہیں۔'
مبینہ 'لو جہاد' کے بارے میں بات کرتے ہوئے شبانہ کہتی ہیں کہ اس طرح کی چیزیں دونوں معاشروں کے درمیان خلیج کو بڑھانے کا کام کرتی ہیں۔