آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: ہندو مسلم تنازعے کی ایجاد کا سیاسی فارمولا
- مصنف, راجیش پریہ درشی
- عہدہ, ڈیجیٹل ایڈیٹر، بی بی سی ہندی
ایودھیا میں متنازع زمین پر رام مندر بنے یا نہ بنے، دونوں ہی حالات میں اس سے اگر کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہے۔
اگر مندر بنا تو ہندوتوا کی جیت ہو گی۔ اگر نہیں بنا تو شکست خوردہ اکثریتی برادری ہندوؤں کو بی جے پی کی حمایت کے لیے مزید شدت کے ساتھ متحد ہونے کی اپیل کی جائے گی۔ یعنی 'چت بھی میری اور پٹ بھی میری۔'
یہ ایک کامیاب فارمولہ ہے کہ اگر جیتے تو 'جے جے' اور ہارے تو 'ہائے ہائے'۔ بہ الفاظ دیگر ہندوؤں کے مذہبی جذبات کی ہانڈی ہمیشہ آنچ پر چڑھی رہے گی۔
اسی فارمولے کے تحت لکھنؤ میں بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے ایک تاریخی مسجد کے سامنے چوک پر ہندو دیوتا اور رام کے بھائی لکشمن کا مجسمہ ایستادہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس تجویز پر مسجد کے امام نے اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے سامنے عید اور بقرعید کی نماز ہوتی ہے اور مسلمان کسی بت کے سامنے نماز نہیں پڑھ سکتے۔
اس طرح ایک بڑا اور فائدہ مند تنازع پیدا ہو چکا ہے۔ یہ جس قدر بڑھے گا اسی قدر ہندوتوا کے بیانیے کو تقویت ملے گی اور اقلیتی برادری مسلمانوں میں یہ احساس گھر کرے گا کہ شاید وہ مساوی حقوق کے حامل شہری نہیں ہیں۔
بہر حال ٹيلےوالی مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ انھیں لکشمن کے مجسمے پر اعتراض نہیں ہے لیکن یہ مورتی مسجد کے بالکل سامنے نہیں لگنی چاہیے جبکہ بی جے پی سے منسلک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مورتی وہیں لگائی جائے گی۔ ایسے میں اگر مجسمہ کہیں اور نصب ہوتا ہے تو تنازع کہاں پیدا ہوگا؟ اور اگر کوئی تنازع پیدا نہیں ہوتا تو ان سب کا فائدہ کیا ہے؟
یہ مختلف سیاسی ماسٹر سٹروکس میں سے ایک ہے کیونکہ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور یہاں تک کہ بی ایس پی بھی اگر اس نئے تنازعے میں پڑے گی تو بی جے پی ان پر 'ہندو مخالف' ہونے کا لیبل لگائے گی۔ اس طرح اس میں بڑا سیاسی جوکھم ہے۔ اس لیے بی جے پی مخالف خاموش ہی رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
بہر حال ہندو حزب اختلاف کے پاس ہندو جذبات کی سیاست کی کوئی کاٹ بھی نہیں ہے۔ وہ یا تو خاموش رہتے ہیں یا بی جے پی کے رہنماؤں کے ساتھ مندروں اور مٹھوں میں سر جھکانے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ حزب اختلاف صرف حساب کتاب کے سہارے تصورات و عقائد کی جنگ جیتنا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں۔
نوجوان انڈیا کے ترقی کا ہر زینہ مستقبل کے بجائے شاندار ہندو ماضی کی طرف جا رہا ہے۔ ملک کے نوجوانوں کا کام لکشمن کی مورتی سے چل جائے گا، لکھنؤ یونیورسٹی کی حالت کی بات تنازعات سے فرصت ملنے پر پھر کبھی کی جائے گی۔
ہندو یقین بالمقابل تاریخی دلائل
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ لکھنؤ دراصل لكھن پوری ہے۔ اس لیے وہاں لکشمن کا عظیم مجسمہ نصب ہونا چاہیے۔ مسجد کے سامنے اسے لیے بننی چاہیے کہ ٹیلے والی مسجد دراصل لکشمن ٹیلے پر بنائی گئی تھی اس لیے مورتی وہیں لگائيں گے۔ بات ختم۔
اس تنازعے کے پس پشت لکھنؤ کے پرانے باشندے اور بی جے پی کے سینیئر لیڈر لال جی ٹنڈن کی کتاب 'ان کہا لکھنؤ' ہے جس میں انھوں نے مشترکہ ثقافت والے شہر پر ہندوؤں کا اساطیری دعوی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
لال جی ٹنڈن کا دعوی ہے کہ بھگوان رام کے بھائی لکشمن شیش ناگ کے اوتار تھے۔ انھوں نے ہی شہر کی بنیاد رکھی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کی مکمل تاریخ ہے۔
لکھنؤ شہر کے نام کے متعلق بہت سی کہانیاں ہیں۔ کچھ لوگ ٹنڈن کی طرح اسے لکشمن سے منسلک کرتے ہیں جبکہ بعض 11 ویں صدی کے دلت بادشاہ لاکھن پاسی سے اس کا تعلق قائم کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے ہندو دیوی لکشمی سے جوڑتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ سولکشناپوری تھی یعنی خوش قسمت شہر۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتر پردیش کے موجودہ نائب وزیر اعلی دنیش شرما دو سال پہلے لکھنؤ کے میئر تھے اور انھوں نے پاسی برادری کے ایک اجتماع میں مہاراجہ لاكھن پاسی کا مجسمہ لگوانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب وہی دینش شرما لکشمن کا مجسمہ نصب کرنے کا وعدہ بھی کریں گے۔
آپ یہ سمجھ لیں کہ یہ تمام چیزین سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، بی جے پی کے لیے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو لکشمن کی مورتی لگانے پر اعتراض ہے لہذا ہندوؤں کو ان کے خلاف منظم ہونا چاہیے کیونکہ یہ اعتقاد کا سوال ہے۔
اعتقاد کی سیاست میں یہ آسانیاں ہوتی ہیں کہ ان میں حقائق، دلائل اور قواعد و ضوابط کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ہندوؤں کا ملک ہے، جیسا ہندوؤں چاہیں گے ویسا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندو خوش ہوں گے اور ویسا نہ ہوتا ہے تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں وہ ووٹ ایک ہندو کی طرح دیں گے نہ کہ کسی جمہوری ملک کے شہری کی طرح۔ اور کیا چاہیے؟
انھیں اس کے لیے کوئی شواہد اور ثبوت دینے کی ضرورت نہیں بس ان کا یقین ہی کافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بعض تجزیہ کار سنہ 2005 کا الہ آباد ہائی کورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں سڑکوں یا ایسی جگہ پر مورتی یا ہورڈنگ لگانے سے منع کیا گیا جس سے ٹریفک متاثر ہو۔
لیکن اعتقاد قوانین کی پابند تو ہوتے نہیں اور اگر وہ مذہبی ہوں تو کیا ہی کہنے۔ بی جے پی کے رہنما پوچھ رہے ہیں کہ اگر لکشمن کا مجسمہ لکھنؤ میں نہیں ہوگا تو کہاں ہوگا؟
ہندو قوم، مسلم اور عوام کا مفاد
اس طرح کے تنازعات ہندو لیڈر ساورکر اور بانئي پاکستان محمد علی جناح کے دلائل کو ثابت کرتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان کو دو علیحدہ قومیں وہ ایک ساتھ امن سے نہیں رہ سکتے۔
ہندو راشٹر کے تصور کو اس دن ٹھوس منطقی بنیاد مل گئی جس دن پاکستان کا قیام عمل میں آیا لیکن گاندھی، نہرو، پٹیل اور مولانا آزاد جیسے لیڈروں کو لگا کہ اس انتقامی تصورات سے برابری، آزادی اور بھائی چارے والی جمہوریت کا اصول کہیں بڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
برابری، آزادی اور بھائی چارے کے لیے ضروری ہے ملک کا نظام ایسا ہو جو مذہب کی بنیاد پر اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے، یہ وہی اصول ہے جو بعض لیڈروں کے کاموں کے سبب بدنام سیکولرزم بن گیا۔
اکثریت ہندو عوام کو یہ سبق پڑھانا آسان ہو گیا کہ مسلمانوں کو برابر کا شہری ہونے کا حق نہیں ہے، کیوں یہ ضروری ہے کہ انڈیا ہندو راشٹر بنے اور اکثریتی ہندو طے کریں کہ اقلیتی مسلمانوں کو اس ملک میں کس طرح رہنا ہے۔ اور اب تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی پوچھا شروع کیا 'تو اس میں کیا غلط ہے؟'
ایسے میں صرف سمجھدار لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ عوامی جذبات اور عوامی دلچسپی میں دو مختلف چیزیں ہیں۔ لکشمن کا مجسمہ عوامی جذبات کا عکاس ہے تو ہینڈ پمپ عوامی مفاد کے لیے ہے۔