ایودھیا نزاع میں ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

    • مصنف, راجیش پریدرشی
    • عہدہ, ڈجیٹل ایڈیٹر، بی بی سی ہندی

فتح اور انصاف دو الگ لفظ ہیں اور ان کے معنی بھی مختلف ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا تعلق دو مختلف مقدمات سے ہے۔ ایک ہے ایودھیا کی متنازع زمین کے مالکانہ حق کا مقدمہ اور دوسرا ہے بابری مسجد گرائے جانے کی مجرمانہ سازش کا مقدمہ۔

بابری مسجد کے انہدام کے 25 برس پورے ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی باضابطہ طور پر کی جائے گی۔ تاہم مجرمانہ سازش کا مقدمہ لکھنؤ میں اپنی رفتار سے چلتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ جب فیصہ کرے گی تب کرے گی، لیکن حکمراں جماعت بی جے پی کے ’قابل احترام‘ سرپرست، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت فیصلہ سنا چکے ہیں کہ مندر وہیں بنے گا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے کہا ہے کہ موہن بھاگوت عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند شیعہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ ایودھیا میں مندر بنے اور لکھنؤ میں مسجد۔ دیگر مسلمان رہنماؤں، خاص طور پر سنی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بیان کی ہدایات کہیں اور سے آ رہی ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ایودھیا کا معاملہ جتنا مذہب سے جڑا ہے اس سے کہیں زیادہ سیاست سے جڑا ہے۔

ہندو ووٹروں سے کیا گیا آدھا وعدہ

بی جے پی نے ہندو ووٹروں سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی ادھورا ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اکثریت والی حکومت بنی تو رام مندر بنوائے گی۔ مودی حکومت کے پہلے تین برسوں میں ترقی کے نعروں پر زور رہا۔ اب ایک مرتبہ پھر مذہبی تلوار کی دھار تیز کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مسجد گرائے جانے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اسی جگہ مسجد بنانے کی بات کہی تھی۔ آج اس وعدے کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ نہ کانگریس میں اور نہ ہی کسی دوسری جماعت میں۔

سپریم کورٹ میں مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی گجرات انتخابات سے ٹھیک پہلے شروع ہو رہی ہے۔ کوئی اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ یہ معاملہ کسی نہ کسی طرح سنہ 2019 کے عام انتخابات میں بھی گرم رہے گا۔ شاید سب سے زیادہ گرم۔

رشتوں میں بڑا ٹرننگ پوائنٹ

اس پر بحث یا شک کی گنجائش نہیں ہے کہ آزادی کے بعد سے جمہوری بھارت میں ہندو مسلمان رشتوں میں بابری انہدام سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ کوئی اور نہیں ہے۔ زیادہ تر مسلمان اسے ہندوؤں سے ملے گہرے زخم کی طرح دیکھتے ہیں جو آج بھی رس رہا ہے۔

بابری انہدام کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرکار بابری مسجد کی حفاظت کرے گی۔ گاندھی اور نہرو نے مسلمانون سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں برابری کے ساتھ رہ سکیں گے۔ یہ دونوں وعدے مسجد کے ملبے تلے دبے پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ملک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں مسلمانوں کو عدالت سے انصاف کی توقع ہے جب کہ ہندو اپنی فتح کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ حکومت نہ صحیح عدالت تو سیکیولر ہے۔

ہندو مذہبی تعصب رکھنے والوں کی توقعات بالکل واضع ہیں۔ مندر سمجھوتے سے بنے یا عدالتی فیصلے سے یا پھر ویسے ہی بنے جیسے بابری مسجد کا انہدام ہوا۔ لیکن مندر وہیں بنائیں گے۔

موجودہ حالات

آج ملک کے حالات چھ دسمبر 1992 سے بہت مختلف ہیں۔ حکمران جماعت متنازع زمین پر رام مندر بنانے کا وعدہ کر چکی ہے۔ اتر پردیش میں گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کی حمکوت ہے۔ جب ایک فلم پر اتنا بوال کھڑا کیا جا سکتا ہے تو مندر پر کیا رد عمل ہوگا، اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی برس مارچ میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے جج جے ایس کھیہر نے کہا تھا کہ اس معاملے کو آپس میں مذاکرات سے سلجھا لینا چاہیے۔ بھارت کے اس دور کے چیف جسٹس نے کہا تھا وہ مذاکرات کے لیے ثالثی کر سکتے ہیں۔ ان کی اس پیشکش کا لال کرشن آڈوانی سمیت بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے خیر مقدم کیا تھا۔

اس وقت بھی قانون اور انصاف کی سمجھ رکھنے والوں نے پوچھا تھا کہ جب مجرمانہ معاملے میں انصاف نہیں ہوا تو سمجھوتا کیسے ہو سکتا ہے۔ لال کرشن آڈوانی اس معاملے کے ملزمان میں سے ایک ہیں۔ ان کے انڈیا کے صدر نہ بن سکنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔

آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منموہن سنگھ لبرہان نے لمبی تفتیش کے بعد سنہ 2009 میں ایک رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بابری مسجد کا انہدام ایک گہری سازش تھی جس میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی بڑے رہنما شامل ہیں۔

انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

انڈین ایکسپریس اخبار سے بات کرتے ہوئے جسٹس لبرہان نے کہا تھا کہ مالکانہ حق کا فیصلہ پہلے کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس سے مجرمانہ معاملے پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مجرمانہ معاملے سے نپٹنا ضروری ہے کیوں کہ وہ لوگ ابھی زندہ ہیں جنہوں نے یہ جرم ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

جسٹس منموہن لبرہان نے اسی انٹرویو میں ایک بہت اہم بات کہی تھی۔ وہ یہ کہ ’عدلیہ نظام میں مسلمانوں کا یقین بحال کیا جانا چاہیے لیکن مشکل یہ ہے کہ ایسی تنظیمیں بھی نہیں ہیں جو ایسا کر رہی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیں

عدالت اپنا کام اپنے طریقے سے کرے گی۔ اس پر کسی طرح کی تنقید مقصد نہیں ہے۔ لیکن بھارت کے کروڑوں مسلمان عدالتی نظام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ پورے ملک کے لیے فکر کی بات ہونی چاہیے یا نہیں؟

امریکہ میں سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے لڑنے والے مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ ‘انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔‘ ان کی یہ بات دنیا کے کسی بھی کونے کی لیے سچ ہے۔