چیمپیئنز ٹرافی: راولپنڈی کے بعد لاہور کے سٹیڈیم میں بھی تماشائی گراؤنڈ میں ’افغانوں کی خوشیاں اتنی کہ خندق بھی کراس کر ڈالی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, منزہ انوار، محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں افغانستان اور انگلینڈ کے درمیان چیمپئنز ٹرافی میچ کے اختتام پر ایک تماشائی گراؤنڈ میں گھس آیا جسے سکیورٹی اہلکار حراست میں لے کر وہاں سے لے گئے۔
یہ چند گھنٹوں کے وقفے کے بعد دوسرا ایسا واقع ہے جب کوئی تماشائی دورانِ میچ گراؤنڈ میں داخل ہو گیا ہو۔
دو دن قبل راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ اے کے اہم میچ کے دوران ابھی کھیل ایک نازک موڑ پر تھا جب 29 ویں اوور کے اختتام پر ایک شخص دوڑتا ہوا پچ پر پہنچ گیا۔
سکیورٹی اہلکاروں نے اسے حراست میں لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ کہا تھا کہ اب ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کہ کوئی تماشائی گراؤنڈ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ مگر لاہور میں کھودی جانے والی خندق کو بھی عبور کر کے ایک تماشائی گراؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔
ابھی اس کا جواب تو پی سی بی اور انتظامیہ نے دینا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ تمام تر انتظامات کے باوجود تماشائی ایک بار پھر سے گراؤنڈ کے پلے ایریا تک پہنچ گیا، تاہم سوشل میڈیا پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’افغانیوں کی خوشیاں اتنی کہ خندق بھی کراس کر ڈالی۔‘

،تصویر کا ذریعہX.com
جب تک پی سی بی اور انتظامیہ کا اس واقعے پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آتا اس وقت آئیے ایک بار پھر راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات پر نظر دوڑاتے ہیں۔
سکیورٹی حصار توڑ کر پنڈی سٹیڈیم میں داخل ہونے والا نوجوان: ’دوست نے کہا مولوی کی تصویر لے جا، وائرل ہو جائے گا‘
گذشتہ روز بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ اے کے اہم میچ کے دوران ابھی میچ ایک نازک موڑ پر تھا جب 29 ویں اوور کے اختتام پر ایک شخص دوڑتا ہوا پچ پر پہنچ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاسر عرفات انکلوژر سے گراؤنڈ میں کودنے والے اس شخص نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھ میں پاکستان کی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما سعد رضوی کی تصویر تھی۔
اسے اپنے قریب آتے دیکھ کر کیوی بلے باز رچن رویندرا دور بھاگنے لگے اور پھر سکیورٹی اہلکار اس شخص کو پکڑ کر واپس لے گئے۔
جس وقت عبدالقیوم سٹیڈیم میں کودے تو ٹام لیتھم 20 اور رچن رویندرا 69 رنز پر کھیل رہے تھے۔
راولپنڈی پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اب اس شخص جس کی شناخت عبدالقیوم کے طور پر کی گئی ہے، انھیں مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
راولپنڈی پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کاشف ذوالفقار نے بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا کہ ’دورانِ تفتیش ملزم عبدالقیوم نے انھیں بتایا کہ وہ اٹک سے دوستوں کے ہمراہ میچ دیکھنے آئے تھے اور پچ پر اپنے فیورٹ کھلاڑی دیکھ کر وہ کچھ جذباتی ہو گئے اور انھیں شاباش دینے کے ارادے سے سٹیڈیم میں آ گئے۔‘
ایس ایس پی کاشف ذوالفقار کے مطابق ملزم نے جان بوجھ کر پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور سکیورٹی حصار توڑا ہے جو کہ جرم ہے لہذا انھیں گرفتار کرکے ان پر ایف آئی آر درج کی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ آج ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے انھیں ریلیف دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
گراؤنڈ میں موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا عبدالقیوم کی عمر 18 برس کے قریب ہے اور یہ ایک سٹوڈنٹ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اسے یہ پوسٹر وہیں گراؤنڈ میں اس کے دوستوں میں سے کسی نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مولوی کی تصویر گراؤنڈ میں لے جا، وائرل ہو جائے گا۔‘
ایس ایس پی کاشف ذوالفقار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ہم نے اپنے سکیورٹی پلان پر نظرِ ثانی کی ہے اور سکیورٹی کو مزید بڑھایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ رات آٹھ بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے یاسر عرفات انکلوژر سے ایک شخص نے باؤنڈری کے پیچھے لگائی گئی گرل کو عبور کیا اور گراؤنڈ میں کود گیا۔ اس شخص نے ارادی طور پر سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کی۔ انھیں سکیورٹی کی جانب سے پکڑ لیا گیا۔ انھوں نے اپنا نام عبدالقیوم بتایا اور ان کا تعلق ضلع اٹک سے تھا۔
عبدالقیوم پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 186، 447 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پی سی بی کا کیا مؤقف ہے؟
پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی نے سکیورٹی کی خلاف ورزی کے اس عمل کا نوٹس لیا ہے اور کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔
پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق ’ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر ہم نے مقامی سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے اور ہم کرکٹ گراؤنڈز کے اندر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کا اعادہ کرتے ہیں اور گراؤنڈ میں داخلے کو روکنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔‘
پی سی بی کے مطابق ’اب سے اس شخص پر پاکستان بھر میں تمام کرکٹ گراؤنڈ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔‘
گراؤنڈز میں داخل ہونے کا عمل متنازع کب بنا؟
سنہ 1999 کے ورلڈکپ کا وہ لمحہ شاید سب کے ہی ذہن میں ثبت ہو، جب اس وقت کے پاکستانی کپتان اور فاسٹ بولر وسیم اکرم آسٹریلیا کے آخری بلے باز کو بولڈ کرنے کے بعد ڈریسنگ روم کی جانب بھاگتے جا رہے ہیں اور تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد انھیں پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ اس وقت کا معمول تھا کہ میچ کے اختتام پر عموماً تماشائی گراؤنڈز میں داخل ہو جاتے تھے اور اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو گلے لگاتے یا ان سے آٹوگراف لینے کی کوشش کرتے۔
یہ روایت انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا خاصی عام تھی کیونکہ یہاں کرکٹ گراؤنڈز میں داخل ہونے کے حوالے سے قواعد موجود نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے برعکس ایشیائی ممالک میں اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے متعدد قواعد بنائے گئے تھے جس کی ایک وجہ یہاں سکیورٹی کے پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچوں کے دوران سکیورٹی کے خدشات اور تماشائیوں کے میچ ہارنے پر مختلف انداز میں برہمی کا اظہار بھی تھا۔
تاہم پھر سنہ 2001 میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان انگلینڈ میں ہونے والی نیٹ ویسٹ سیریز کے ایک میچ کے بعد اس حوالے سے قواعد پر نظرِ ثانی کی گئی۔
یہ میچ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلا جا رہا تھا، اور جب ایک موقع پر پاکستانی شائقین کو یہ محسوس ہوا کہ انگلینڈ کے آخری کھلاڑی ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے ہیں اور وہ فوراً گراؤنڈ میں داخل ہو گئے حالانکہ امپائر نے اپیل پر آوٹ ہی نہیں دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انگلینڈ کے کپتان ایلک سٹوئرٹ کے مطابق اس دوران انگلش اوپنر نک نائٹ کو چوٹ بھی لگی تاہم انگلینڈ کیونکہ اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں تھا کہ میچ جیتنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا اس لیے کھلاڑی دوبارہ فیلڈ پر نہیں آئے اور ایلک سٹوئرٹ نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ یہ میچ پاکستان نے جیت لیا ہے۔
اس حوالے سے آسٹریلیا کی جانب سے اپنے گراؤنڈز کے لیے تو پہلے ہی قواعد وضع کیے جا چکے تھے لیکن انگلینڈ کی جانب سے اس حوالے سے کارروائی کے بعد سے دیگر ممالک نے بھی اس حوالے سے قواعد سخت کرنا شروع کیے۔
سنہ 2009 میں جب چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پاکستان نے انڈیا کو شکست دی تو اس میچ کے بعد بھی شائقین گراؤنڈ میں داخل ہو گئے تھے۔ یہ میچ جنوبی افریقہ میں کھیلا جا رہا تھا جہاں اس حوالے سے قواعد خاصے نرم تھے، تاہم اس کے بعد آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گراؤنڈ میں داخل ہونے والے تماشائیوں کو اب سے گرفتار کر لیا جائے گا۔
اکا دکا شائقین اس کے بعد بھی گراؤنڈز میں داخل ہوتے رہے ہیں، جن میں انڈیا اور آسٹریلیا کے سنہ 2023 کے ورلڈ کپ فائنل کے دوران بھی ایک شخص شامل ہیں جنھیں بعد میں آئی سی سی کی جانب سے کوئی بھی میچ گراؤنڈ میں آ کر دیکھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔













