’گھوڑے سے گری تو موٹرسائیکل سوار بنی، خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی دوڑ میں حصہ لے سکوں گی‘

سپر بائیک دوڑ

،تصویر کا ذریعہCLAIRE LOMAS

کلیئر لومس کا اگرچہ چھاتی سے نچلہ حصہ شل ہے مگرپھر بھی انھوں نے اپنی اس معذوری کو مجبوری یا محرومی نہیں بننے دیا۔ کلیئر کی نظر نئے نئے ریکارڈ بنانے پر ہے۔ انھوں نے سپر بائیک 80 میل فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے چلا کر نیا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔

کلیئر کا کہنا ہے کہ سپر بائیک کی دوڑ میں حصہ لینے سے وہ ’آزاد‘ محسوس کرتی ہیں۔

کلیئر لومس سنہ 2007 میں گھڑ سواری کے ایک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد سے چل پھر نہیں سکتی ہیں۔

تاہم وہ ہفتے کے روز شمالی آئرلینڈ میں نارتھ ویسٹ این ڈبلیو 200 کورس میں 128 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے بائیک دوڑا کر اس ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

لیسٹر شائر کے میلٹن موبرے سے تعلق رکھنے والی کلیئر لومس نے کہا کہ انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا کر پائیں گی۔

Claore Lomas

،تصویر کا ذریعہClaire Lomas

43 برس کی کلئیر نے اس مقابلے میں حصہ لینے کے لیے ایک خاص طرح سے ڈیزائن کردہ سپر بائیک کا استعمال کیا، جو ان کے جسم کے لیے موزوں تھا۔

کلیئر نے کہا کہ ’یہ ایک حیرت انگیز احساس تھا۔ جب میں اپنے حادثے کے بعد ہسپتال میں پڑی تھی تو میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسا کچھ بھی کر سکوں گی۔‘

ان کے مطابق ’میں بہت گھبرائی ہوئی تھی اور ہدف کی طرف بڑھنے میں ابھی خاصا وقت درکار تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’جب میں ریس میں آگے بڑھ رہی تھی تو ایک سرخ مگر بے سود جھنڈا ہی ہر طرف لہرا رہا تھا۔

ان کے مطابق ’میں اپنے سینے کے نیچے کچھ محسوس نہیں کر سکتی تھی لیکن اپنے پیٹ میں ایک خوف کی کیفیت محسوس کر سکتی تھی۔

کلیئر کے مطابق ’جب میں 84 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر آگے بڑھ رہی تھی تو اس سے مجھے آزادی کا احساس ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کے مطابق ’مجھے ایک لمحے میں ہی لگا کہ یہ اب میرا مشغلہ بن چکا ہے۔‘

کلئیر لومس، جن کی گھڑ سواری کے حادثے میں پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں، پھیپھڑے ناکارہ ہو گئے، گردن اور کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی نے ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’نکولس سپنائنل انجری فاؤنڈیشن‘ کے لیے 4400 پاؤنڈ سے زائد کے عطیات جمع کیے۔

یہ تنظیم ریڑھ کی ہڈی کے زخم سے ہونے والی معذوری کے علاج پر تحقیق کر رہی ہے۔

این ڈبلیو 200 کے منتظم مروین وائٹ نے پہلے اس موقعے پر یہ کہا تھا کہ ’کلیئر نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ قابل ذکر ہے۔‘

’ان کا عزم اور ہمت ہر ایک میں جذبہ پیدا کرتا ہے۔‘