بی بی سی 100 ویمن: عابیہ اکرم جو اپنی معذوری کو محرومی نہیں بلکہ مختلف طرز زندگی کے طور پر دیکھتی ہیں

عابیہ اکرم
    • مصنف, ثنا آصف ڈار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بی بی سی کے 100 ویمن سیزن میں اس برس پاکستان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن عابیہ اکرم کا نام بھی شامل ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے معذور افراد اور خاص کر کے معذور خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔

عابیہ اکرم کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ’ڈس ابیٹلی‘ پر فخر ہے اور ان کا ہر وقت مسکراتا چہرہ اور روشن آنکھیں اس بات کی گواہی بھی دیتی ہیں۔

وہ اپنی روز مرہ زندگی میں چاہے وہیل چیئر کا استعمال کرتی ہیں لیکن ان سے ملاقات کر کے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ، مضبوط ارادے اور حوصلہ کسی سہارے کا محتاج نہیں۔

عابیہ اکرم سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام ( STEP) کی ڈائریکٹر پروگرامز ہیں۔ جسمانی معذوری کے لیے کام کرنے والا یہ ادارہ معذور افراد کو بااختیار بنانے اور مرکزی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق سے متعلق معاشرے کو حساس بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

عابیہ اکرم پاکستان میں معذور خواتین کے نیشنل فورم کی چیف ایگزیکٹو بھی ہیں لیکن وہ ڈس ابیٹلی کو کسی محرومی یا کمی نہیں بلکہ ایک مختلف طرز زندگی کے طور پر دیکھتی ہیں۔

عابیہ نے معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں معذور افراد کو گناہوں کی سزا، آزمائش یا اللہ لوگ سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں انھیں گھروں میں عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے اور انھیں معاشرے میں شامل نہیں کیا جاتا۔‘

عابیہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی قسم کی معذوری کا شکار ہے تو انھیں خود کو منوانے کے لیے تقریباً ہر دن ہی جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور انھیں خود بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

’معذور افراد کو لے کر لوگوں کے رویے بہت مختلف ہوتے ہیں، لوگوں کو لگتا ہے کہ معذور افراد کچھ نہیں کر سکتے، یہ باہر جا کر کیسے پڑھ سکتے ہیں۔ لوگوں کے دماغ میں میرے بارے میں بھی ایسے ہی رائے تھی اور اس سوچ کو بدلنے کے لیے مجھے بہت جدوجہد کرنا پڑی۔‘

واضح رہے کہ عابیہ پاکستان کی پہلی (ڈس ایبل) خاتون ہیں جن کو برطانوی حکومت کا شیوننگ سکالر شپ بھی مل چکا ہے۔

عابیہ اکرم

پاکستان میں معذور افراد کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے عابیہ کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی معذور فرد باہر جاتا ہے تو اسے اوپر لانے کے لیے چار پانچ لوگوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ ہم سیڑھیاں تو بنا دیتے ہیں لیکن ریمپ نہیں بناتے اور پھر کہا جاتا ہے کہ بے چارے معذود لوگ۔ قوت سماعت سے محروم افراد کے لیے ہسپتالوں میں سائن لینگوئج (اشاروں کی زبان) سمجھنے والا کوئی نہیں۔‘

عابیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب خواتین میں معذوری کی بات آتی ہے تو انھیں زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’اگر آپ عورت ہیں اور اس کے ساتھ معذور بھی ہیں تو آپ کے ساتھ زیادہ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور پھر اگر ایسی خواتین معاشی طور پر بااختیار بھی نہ ہوں اور ان کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہوں تو مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔‘

عابیہ نے بتایا کہ پاکستان میں کسی قسم کی معذوری کا شکار خواتین کے لیے کام کرتے ہوئے ان کا سب سے بڑا چیلنج ان خواتین کو گھروں سے باہر نکالنا تھا۔

’میرے سارے کام میں سب سے اہم خواتین باہم معذوری کو گھروں سے نکالنا تھا اور اس کے لیے ہمیں ان کی کاؤنسلنگ اور تربیت کرنا پڑی۔ یہ اس لیے ضروری تھا تاکہ ہم ان کو ان کی معذوری قبول کرواتے ہوئے با اختیار بنا سکیں۔‘

’پاکستان میں حال ہی میں پہلی بار معذور افراد کے حقوق کے لیے قانون بنایا گیا اور ان تمام قوانین اور پالیسی ریفارمز کو نافذ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ خواتین کو با اختیار بنایا جائے اور ان کو مواقع دیے جائیں۔‘

عابیہ کے کام اور ان تھکن کاوشوں کی بدولت آج کئی خواتین نا صرف خود مختار ہیں بلکہ وہ انتہائی فعال انداز میں معاشرے میں اپنا کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔

عابیہ نے بتایا کہ بہت سی خواتین نے اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کیے تاکہ وہ اپنی فیملی کو سپورٹ کر سکیں اور دوسری خواتین کو بھی کام کا موقع دے سکیں۔

’ملتان میں ایک خاتون ہیں جو اپنی وہیل چیئر فیکٹری چلا رہی ہیں اور اس فیکٹری میں انھوں نے بہت سی معذور خواتین کو کام کرنے کا موقع دیا۔‘

’کچھ خواتین نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک موبائل ایپ ( Equal Access) بنائی جو آپ کو اس بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے کہ آپ کو سکالر شپ کہاں سے ملے گی، آپ کہاں سے ملازمت تلاش کر سکتے ہیں، اگر آپ نے شناختی کارڈ بنوانے جانا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عابیہ اکرم

’ہماری کچھ خواتین نے قوت سماعت سے محروم خواتین کے لیے آرٹ سکول قائم کیے۔ جہاں خواتین کو آن لائن کلاسز دی جاتی ہیں۔‘

اور صرف یہ ہی نہیں اسلام آباد میں موجود سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام ( STEP) کے دفتر میں، جہاں میں نے عابیہ کا انٹرویو کیا، وہاں موجود سٹاف میں کوئی قوت سماعت و گویائی سے محروم تھا تو کوئی کسی جسمانی معذوری کا شکار نظر آیا لیکن میرے لیے ان سب افراد کی اپنے کام میں لگن قابل دید تھی۔

اور عابیہ بھی تو یہ ہی چاہتی ہیں کہ کسی بھی قسم کی معذوری کے شکار افراد خود کو کسی سے کمتر نہ سمجھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’معذوری کو اپنے اوپر سوار کر کے اسے کوئی مجبوری نہ سمجھیں، اپنی ڈس ایبلٹی کو قبول کریں، اسے اپنی طاقت بنائیں اور پھر سوچیں کہ آپ معاشرے کے دوسرے لوگوں کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ کس طرح آپ مثبت انداز میں سوسائٹی کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

لیکن عابیہ کا ماننا ہے کہ معذور افراد اور خاص کر کے خواتین کی آوازوں کو پارلیمنٹ میں شامل کرنے اور حکومتی سطح پر ابھی بھی بہت سا کام کرنے کی گنجائش باقی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں تمام شعبوں اور حکومتی پالیسیوں میں معذور افراد کے لیے جگہ چاہیے، ان کے لیے بجٹ دیا جائے۔ ہم دو دہائیوں سے اس پر بات کر رہے ہیں کہ معذور خواتین کے حقوق کی بات ہونی چاہیے اور اب ہم ان حقوق کے لیے مزید ایک دہائی تک انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔‘