’فاقہ کش‘ لڑکیاں جن کے ’معجزاتی روزوں‘ کی حقیقت آج تک ایک راز ہے

فاقہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فیلیسیٹی ڈے
    • عہدہ, بی بی سی ہسٹری ایکسٹرا

دسمبر 1869 میں برطانیہ کے ملک ویلز کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک خطرناک تجربہ سرانجام دیا گیا۔ 

سارہ جیکب نامی خاتون کے والدین نے دعویٰ کیا کہ وہ دو برس سے کچھ کھائے بغیر زندہ تھیں۔ 

اب سائنسی برادری کے سامنے وہ یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ ان کی بیٹی واقعی ’معجزاتی‘ طور پر کھائے بغیر زندہ تھیں۔ 

مگر جب دو ہفتوں کے لیے ان کی چوبیس گھنٹے کی نگرانی شروع ہوئی تو چیزیں بہت حوصلہ افزا نہیں لگ رہی تھیں۔ 

کسی بھی دھوکہ دہی کو پکڑنے کے لیے کڑی نگاہیں رکھے ہوئے نرسز 12 سالہ لڑکی کے لیے پریشان ہونے لگیں جو کمزور اور ٹھنڈی پڑتی جا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر فاقہ کشی کے آثار نمایاں تھے۔ 

حالانکہ ملک بھر میں کئی اخبارات اس ’غیر معمولی کیس‘ کو بھرپور کوریج دے رہے تھے مگر سارہ برطانیہ کی ایسی پہلی فاقہ کش لڑکی نہیں تھیں اور نہ ہی وہ ایسے خطرناک ٹیسٹ سے گزرنے والی پہلی شخص تھیں۔ 

یورپ میں ایک طویل عرصے سے ایسی نوجوان خواتین روایات کا حصہ رہی ہیں جو بظاہر کچھ نہ کھانے کے باوجود بہترین صحت کی حامل رہتی ہیں۔ 

قرونِ وسطیٰ کے عقیدت مند کیتھولکس کی مثال پر عمل کرتے ہوئے یہ فاقہ کش لڑکیاں کم از کم 16 ویں صدی سے تو توجہ حاصل کر رہی تھیں اور ان کی فاقہ کشی سے انھیں شہرت اور دولت حاصل ہوتی۔ 

ابتدا سے ہی لوگوں کی رائے اس حوالے سے تقسیم تھی۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ خواتین ’خدا کا معجزہ‘ تھیں جبکہ کچھ لوگوں کو اس بات پر شک تھا۔ 

یہ بات درست ہے کہ اس دور کے ڈاکٹرز وثوق سے یہ بات نہیں کہہ سکتے تھے کہ انسان کھائے بغیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب قحط ایک افسوسناک حقیقت تھی اور لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ زندگی کی بقا کے لیے کھانا کتنا ضروری ہے۔ 

چنانچہ یہ شک ہی تھا جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ نگرانی شروع کی گئی۔ 

فاقہ کش لڑکیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 1600 میں فرانس کے شاہ ہینری چہارم نے اپنے ’بہترین اور اعلیٰ ترین‘ فزیشن کو یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ کہیں جین بالان نامی خاتون کا تین سالہ روزہ ’دھوکہ ہے یا نہیں‘ اور سنہ 1668 میں ارل آف ڈیوون شائر نے مارتھا ٹیلر کا معائنہ کرنے کے لیے سرجنز بلائے جن کا دعویٰ تھا کہ اُنھوں نے 12 ماہ طویل روزہ رکھا ہے جس دوران وہ صرف پانی میں بھگویا گیا پر چوس لیتیں یا پھر تلے ہوئے کچھ خشک انگوروں کا رس پیتیں۔ 

چونکہ ان دونوں (اور کئی دیگر کیسز میں) کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں پائی گئی، اس لیے ڈاکٹر متبادل وجوہات کی تلاش کرتے رہے جن میں فضا کی غذائی خصوصیات اور جسم کی بناوٹ وغیرہ شامل ہیں، اس طرح ’معجزاتی فاقہ کشی‘ کا یہ تصور زندہ رہا۔ 

فروری سنہ 1869 میں جب سارہ کی فاقہ کشی پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی تو اس وقت تک میڈیکل سائنس بھی کافی ترقی کر چکی تھی اور ڈاکٹروں کی اکثریت اس بات پر قائل تھی کہ ہوا کے ذریعے یا خدا کی رحمت سے کھائے پیے بغیر زندہ رہنا بالکل ناممکن، مضحکہ خیز اور تمام قوانین و تجربات کے خلاف ہے۔ 

طویل فاقے (یا اس کی اداکاری کرنے) کو پاگل پن تصور کیا جانے لگا تھا اور کھانے سے انکار کے روایتی ’علاج‘ میں مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا جہاں ’اخلاقی طریقے‘ استعمال کر کے یا اُنھیں کھانے پر قائل کیا جاتا یا اس میں ناکام ہونے پر اُنھیں ٹیوب کے ذریعے زبردستی کھلایا جاتا۔ 

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1887 میں امریکہ کے دی نیشنل پولیس گزیٹ میں شائع ہونے والی ایک تصویر جس میں ایک خاتون کو زبردستی غذا دی جا رہی ہے

زائرین کا تانتا 

انگلینڈ کے گاؤں ٹٹبری کی فاقہ کش خاتون این مور جیسے کیسز نے بھی اس طرح کے ’معجزاتی فاقہ کشوں‘ کی ساکھ و شہرت کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ 

اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے چھ برس تک صرف ایک مرتبہ کچھ بلیک کرنٹس کے گودوں کے علاوہ کچھ نہیں کھایا تھا مگر جب 1813 میں ان کی نگرانی کی گئی تو پایا گیا کہ ’وہ سخت بھوک کی شکار‘ تھیں اور ان کا ’وزن تیزی سے گر رہا تھا‘۔

بعد میں پتا چلا کہ وہ اپنے آپ کو زائرین کے سامنے پیش کر کے 400 پاؤنڈ تک کما رہی تھیں اور اس دوران ان کی بیٹی انھیں چپکے سے کھانا کھلاتیں۔ 

مگر اس سب کے باوجود ’فاسٹنگ گرلز‘ یعنی فاقہ کش لڑکیاں وکٹورین عہد کی نمایاں کردار بنی رہیں۔ 

فاقہ

،تصویر کا ذریعہwellcome collection

،تصویر کا کیپشنفراڈ فاقہ کش خاتون این مور کا 1813 کا خاکہ

نئے سائنسی حقائق اور روایتی مذہبی عقائد کے درمیان تناؤ کے اس دور میں کئی لوگ پھر بھی اس بات پر قائل تھے کہ طبی معجزات ہو سکتے ہیں۔ 

پریس کوریج کی وجہ سے کئی برطانوی افراد ویلز کی کاؤنٹی کارمرتھین شائر میں ’ویلز کی فاقہ کش لڑکی‘ کے گھر زیارت کے لیے جانے لگے۔ 

سارہ اپنے گھر میں ایک کمرے میں پڑی رہتیں اور ان کے بستر پر ربنز، پھول اور کتابیں پڑی رہتیں۔ زائرین کو اجازت تھی کہ وہ سارہ کا چہرہ یا ہاتھ چھو سکیں اور ظاہر ہے کہ تحفے رکھنے کی اجازت بھی تھی۔ 

حالانکہ طبی برادری سارہ کی ایک قدیم طرز کی نگرانی ہوتے دیکھنے سے ہچکچا رہی تھی مگر اُنھیں لگا کہ ایسا نہ کیا گیا تو لوگ ’مضحکہ خیز‘ دعووں پر اعتبار کرنے لگیں گے۔ چنانچہ ان کے اس فاقے کی تصدیق کے لیے تجربے کی اجازت دے دی گئی۔ 

کئی لوگوں کا خیال تھا کہ سخت تر نگرانی کی وجہ سے لوگ یہ جان جائیں گے کہ کھانے کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہے۔ 

اس مقصد کے لیے لندن کے گائز ہسپتال سے چار نرسیں لائی گئی اور گھر کی اچھی طرح تلاشی لی گئی۔ سارہ کے والدین نے بھی ان کے کمرے میں نہ جانے اور سارہ کی بہن کو ان کے ساتھ نہ سونے دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ 

سارہ زندہ نہ بچ پائیں 

وہ اپنے بستر میں پڑی رہیں، ان کا جسم ٹھنڈا اور بے آرام ہونے لگا جبکہ اُن کی ذہنی حالت بھی متاثر ہونے لگی۔ اس موقع پر ڈاکٹروں نے ان کے والدین پر زور دیا کہ وہ نگرانی ختم کروا لیں تاکہ سارہ کو چپکے سے دوبارہ کھانا پہنچایا جانے لگے۔ یہ بات اب واضح ہو چکی تھی کہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آ رہا تھا۔ 

مگر شاید اپنی انا، یا اپنے خیالات، یا جیسے اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے سارہ سے وعدہ کر رکھا ہے، ان سب کی بنا پر اُنھوں نے اس بات سے انکار کر دیا۔ 

دسمبر کی 17 تاریخ کو سارہ کی موت ہو گئی۔ 

پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کا 26 ماہ سے کچھ نہ کھانے اور پینے کا دعویٰ حقیقت کے برعکس تھا۔ 

عوامی غم و غصے کے بعد سارہ کے والدین کو قتل کا مجرم پایا گیا۔ 

فاقہ
،تصویر کا کیپشنسارہ کے آخری لمحات اور ان کے والدین کے ٹرائل کے بارے میں اخباری تراشے

دیگر کیسز

سب سے مشہور کیس مولی فینچر کا تھا جو 1866 میں ’سات ہفتوں تک کھائے بغیر‘ زندہ رہنے کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔ 

اس سے ایک سال قبل مولی کی سکرٹ ایک گاڑی میں پھنس گئی تھی جو اُنھیں گھسیٹتی ہوئی کافی دور لے گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد وہ جزوی طور پر معذور اور نابینا ہو گئیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اب وہ مستقبل کی پیش بینی کر سکتی ہیں۔ 

مولی کا یہ دعویٰ 1870 کی دہائی میں سامنے آیا اور وہ چھ ماہ کے عرصے میں بظاہر ایک چھوٹے سے کیلے اور کچھ چمچ دودھ کے علاوہ کچھ نہیں کھاتی تھیں۔ سارہ کی طرح اُنھیں بھی ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ 

ظاہر ہے کہ چند لوگوں کو اس بات پر شک ہوا۔ کم از کم ایک نیورولوجسٹ نے مولی کو 30 روزہ نگرانی پر راضی کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔ 

کئی لوگوں کو اس بات پر بالکل بھی شک نہیں تھا۔ 

مولی کو معذور افراد کے لیے مصنوعی اعضا بنانے والی ایک کمپنی نے تشہیری معاہدے کی پیشکش کی جو اُنھوں نے قبول کر لی۔ امریکی کاروباری شخصیت، سیاست دان اور سرکس پرفارمر فینیاس ٹیلر بارنم نے اُنھیں اپنے شو میں بھرتی کرنے کی کوشش کی۔ 

یہاں تک کہ امریکہ کے صدر ووڈرو ولسن نے سنہ 1916 میں اُنھیں ’بستر میں رہنے کے 50 برس مکمل ہونے پر‘ ایک خط بھی بھیجا تھا۔ 

برطانیہ میں دیگر فاقہ کش لڑکیوں کی طرح کرسٹینا مارشل نامی ایک لڑکی کا کیس بھی بہت مشہور ہوا جنھوں نے 1881 میں مبینہ طور پر خوراک کے بغیر اپنے 18 ہفتے مکمل کیے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی مافوق الفطرت چیزوں پر یقین رکھنے والے علاقوں میں اس طرح کے کیسز بہت مشہور ہونے لگے۔ 

مبینہ طور پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک کھائے بغیر رہنے والی کیٹ سملزی کی زیارت کرنے کے لیے 1880 کی دہائی میں 1000 لوگ آئے۔ 

اس دوران جوزفین میری بیڈارڈ جن کا دعویٰ تھا کہ اُنھیں کھانے کی طلب اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ کسی کو لوہا چبانے کی، اُنھیں اپنے سرکس شو میں شامل کرنے کے لیے دو حریفوں کی آپس میں ٹھن گئی۔ 

مولی فینچر
،تصویر کا کیپشنمولی فینچر نے کبھی کسی کو اپنے معائنے کی اجازت نہیں دی اور وہ یوں ہی وفات پا گئیں

نئی وضاحتیں

یہ بات کبھی واضح نہیں ہو سکی کہ مولی فینچر، سارہ جیکب اور ان جیسی دیگر لڑکیوں نے کھانے سے انکار کیوں کیا اور چپکے سے کھاتی رہیں۔ 

سارہ نے ایسا دورے پڑنے کی ایک پراسرار بیماری کے بعد کیا، مولی نے تب کیا جب وہ حادثے کی شکار ہو چکی تھیں۔ 

ایک شخص ڈاکٹر فاؤلر کا خیال تھا کہ سارہ کے اس رویے کی وجہ ہسٹیریا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ سارہ کے والدین اکثر و بیشتر بیماری کے باعث کم کھانے کے باوجود زندہ رہنے پر حیرانی کا اظہار کرتے جس کی وجہ سے اُنھوں نے کھانا مکمل طور پر چھوڑ دیا۔ 

’اس عادت کو پروان چڑھانے‘ سے اُنھیں فائدہ ہونے لگا جس کی وجہ سے اُنھوں نے یہ ’اداکاری اور دھوکہ‘ جاری رکھا۔ 

کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اس کی وجہ اینوریگزیا نرووسا نامی ایک عارضے کو قرار دیا گیا ہو جس میں انسان کھانے سے اجتناب کرنے لگتا ہے۔ اس عارضے کا تعارف پہلی مرتبہ 1870 کی دہائی کے اوائل میں ہوا تھا اور اس کا تعلق مڈل کلاس خاندانوں کی نفسیات سے جوڑا جاتا جس میں والدین اپنے بچوں کا بے حد خیال رکھتے ہیں جبکہ کھانے کی میز پر خواتین کے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کے وکٹورین عہد کے رویوں کو بھی اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا۔ 

اس کے بجائے عام طور پر ان فاقہ کش لڑکیوں کے بارے میں خبریں صرف ان کے دعووں کی قلعی کھولنے یا ہسٹیریا کی تشخیص تک محدود رہتیں اور دھوکے باز رویے کو اس کی سب سے پہلی علامت قرار دیا جاتا۔ 

مؤرخین اب تک ان خواتین کو اینوریگزیا سے متاثر کہنے سے کتراتے ہیں۔ 

کتاب ’فاسٹنگ گرلز: دی سٹوری آف اینوریگزیا نرووسا‘ کے مصنف جوان جیکبز برومبرگ لکھتے ہیں کہ فاقہ کشی اور چھپ کر کھانے کی علامات بذاتِ خود گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔ 

اُنھوں نے لکھا کہ ’اگر کوئی رویہ مختلف معاشروں اور مختلف ادوار میں پایا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی وجہ ایک ہی ہو یا کوئی بائیولوجیکل وجہ ہو۔‘ 

جو بات واضح ہے وہ یہ کہ وکٹورین دور ایک اہم موڑ تھا جس میں فاقہ کش لڑکیاں حیرانی کی وجہ سے متاثرین میں بدل گئیں جبکہ طویل عرصے تک خوراک سے اجتناب کو ممکنہ معجزوں کے بجائے طبی مسئلہ سمجھا جانے لگا۔ 

فیلیسیٹی ڈے برطانوی تاریخ اور ورثے کی ماہر صحافی اور مصنف ہیں۔