’کابل میں خودکش حملے میں ایمبولینس استعمال ہوئی‘، 95 افراد ہلاک، 158 زخمی

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے اور اطلاعات کے مطابق بم چھپانے کے لیے ایک ایمبولینس کا استعمال کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے اور اطلاعات کے مطابق بم چھپانے کے لیے ایک ایمبولینس کا استعمال کیا گیا۔

کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے وسط میں ایک خودکش بم حملے میں کم سے کم 95 افراد ہلاک اور 158 زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ شہر کے وسط میں واقع محفوظ زون میں ہوا جب دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک ایمبولینس ایک پولیس چوکی کے قریب دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس علاقے میں سرکاری دفاتر، یورپی یونین کا دفتر، غیر ملکی سفارت خانے اور شہر کی پولیس کا صدر دفتر موجود ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حملے کا نشانہ وزارتِ داخلہ کی عمارت تھی، تاہم اس حملے میں بہت سے راہگیر بھی مارے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قابل مذمت حملے کے بعد طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

ایک ہفتے قبل ہی ہوٹل پر طالبان کے حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھیے

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے اور اطلاعات کے مطابق بم چھپانے کے لیے ایک ایمبولینس کا استعمال کیا گیا۔

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے حملے میں ایمبولینس کے استعمال کو کربناک قرار دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دن کے سوا 12 بجے ہونے والے اس دھماکے کے وقت مذکورہ مقام پر بہت بھیڑ تھی۔ دھماکے کے بعد دھواں شہر بھر سے نظر آ رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد انتہائی زیادہ ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں بھی بڑھے گی۔

یہ حملہ شہر میں واقع وزارتِ داخلہ کی پرانی عمارت کے قریب ہوا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیہ حملہ شہر میں واقع وزارتِ داخلہ کی پرانی عمارت کے قریب ہوا

افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصارت رحیمی نے بتایا کہ خود کش حملہ آور نے چیک پوائٹس سے داخل ہونے کے لیے ایمبولینس کا استعمال کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور نے پہلی چیک پوائنٹ سے گزرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مریض کو لے کر جا رہا ہے۔

رکنِ پارلیمان میر وایس یٰسینی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد علاقہ قصاب خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔

کابل حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters

وہ حملے کے مقام سے چند میٹر دور اپنے گھر میں کھانا کھا رہے تھے۔ انھوں نے بتایا: ’پہلے تو میں سمجھا کہ میرے گھر کے اندر دھماکہ ہوا ہے۔‘ جب وہ گھر سے باہر نکلے تو انھوں نے سڑک پر لاشیں بکھری دیکھیں۔ ’یہ سب غیرانسانی ہے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے ایک بہت بڑا شعلہ دیکھا۔ دھواں چبھتی ہوئی بو والا تھا۔ یہ میری آنکھوں میں داخل ہو گیا اور کچھ دیر کے لیے میں دیکھنے سے محروم ہو گیا۔

وہ جب قریب گئے تو انھوں نے لاشیں دیکھیں: ’یہ قبرستان کی طرح لگ رہا تھا۔ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔‘

اس سے قبل اکتوبر 2017 میں کابل میں ایک بم حملے میں 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ طالبان نے اُس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم افغان حکومت کا دعویٰ تھا کہ طالبان حامی گروہ حقانی نیٹ ورک نے یہ حملہ پاکستانی امداد کے ساتھ کیا تھا۔

کابل

،تصویر کا ذریعہWAKIL KOHSAR

،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد ہسپتال میں صورتحال

حالیہ حملے کے بعد بھی افغان حکام نے پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے۔

دنیا بھر سے اس حملے کے بعد مدمتی بیانات آرہے ہیں جبکہ فرانس میں ائفل ٹاور کی بتیاں سنیچر کی شب ہلاک شدگان کے غم میں بھجا دی گئی تھیں۔

پاکستان افغانستان میں حملوں کے حوالے سے کسی بھی شدت پسند تنظیم کی امداد کے الزام سے انکار کرتا ہے۔