کابل: انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر حملہ، 14 شہری ہلاک

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک روز قبل ہی کابل میں عوامی مقامات پر ممکنہ حملے کی تنبیہ جاری کی تھی

افغانستان حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی 12 گھنٹوں تک جاری کارروائی کے بعد کابل کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والے چار مسلح افراد کے حملہ اور بعد ازاں قبضے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں 14 شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سپیشل فورسز نے تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 150 مہمانوں کو ہوٹل پر ہونے والے حملے میں بچا لیا گیا ہے۔

افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسلح افراد 'مہمانوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔'

حکام کے مطابق یہ حملہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے (ساڑھے چار بجے جی ایم ٹی) کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے نہیں اٹھائی ہے تاہم طالبان نے اسی ہوٹل پر سنہ 2011 میں حملہ کیا تھا۔

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ہوٹل میں مہمانوں میں غیرملکی بھی شامل تھے اور اس کی عمارت کی تیسری منزل پر آگ بھڑک اٹھی تھی جہاں کچن واقع ہے۔

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسی ہوٹل کو طالبان کی جانب سے سنہ 2011 میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں نو حملہ آوروں سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے

بعض اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں ایک آئی ٹی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی جس میں صوبائی حکام بھی موجود تھے۔ ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حملوں آروں نے لوگوں کو یرغمال بھی بنایا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک روز قبل ہی کابل میں عوامی مقامات پر ممکنہ حملے کی تنبیہ جاری کی تھی۔

ہوٹل میں ایک مہمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ لوگ اپنے کمروں میں چھپے ہوئے تھے۔

ایک مہمان کا کہنا تھا کہ 'میں نہیں جانتا کہ حملہ آور ہوٹک کے اندر تھے یا نہیں لیکن میں پہلی منزل کے قریب سے گولیوں کی آواز سن سکتا تھا۔'

خیال رہے کہ انٹرکانٹینینٹل سرکاری ہوٹل ہے جہاں اکثر شادیاں، کانفرنسیں اور سیاسی تقریبات منعقد ہوتے ہیں۔ اسی ہوٹل کو طالبان کی جانب سے سنہ 2011 میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں نو حملہ آوروں سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔