افغانستان: دو مساجد پر حملوں میں 60 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں دو مساجد پر دو مختلف حملوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں واقع امامِ زمانہ مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ افعانستان کے مرکزی صوبے غور میں ایک اور مسجد پر ہونے والے حملے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل کی امام زمانہ مسجد میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے نماز جمعہ کے موقع پر خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کابل میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم تنظیم نے اس حوالے سے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔ ماضی میں دولت اسلامیہ شیعہ مساجد پر حملے کرتی رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد نے کابل میں شیعہ مسجد پر حملے کی تصدیق کی لیکن مزید معلومات فراہم سے انکار کیا۔
افغانستان کی وزیر داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ تحقیق کار موقع وارات سے شواہد اکٹھے کر کے دھماکے کی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غور میں ہونے والے حملے کی مزید تفصیلات ابھی موصول ہو رہی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیس اگست کو کابل میں نمازیوں پر ہونے والے ایک حملے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ رواں سال مئی میں کابل میں ہونے والے ایک ٹرک بم حملے میں 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







