بھاگتے مہاجرین کو گرانے والی کیمرہ خاتون پر فرد جرم عائد

،تصویر کا ذریعہGetty
ہنگری کی عدالت نے ہنگری اور سربیا کی سرحد پر بھاگتے ہوئے مہاجرین کو لات مارنے اور ان کو گرانے والی کیمرہ خاتون پر نقص امن کا فرد جرم عائد کر دیا گیا ہے۔
کیمرہ خاتون پیٹرا لیزلو کی ویڈیو بنائی گئی جس میں وہ ایک کم عمر مہاجرین کو لات مار رہی تھیں اور پھر انھوں نے ٹانگ ڈال کر ایک مرد جس کی گود میں بچھ تھا گرایا۔
پیٹرا کو ٹی وی چینل این ون ٹی وی نے اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد نوکری سے نکال دیا تھا۔
انھوں نے اپنی حرکت پر معافی مانگی اور کہا کہ تارکین وطن کو سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حرکت کے باعث ان کی زندگی تباہ ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ہنگری کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ ثابت کرنا کہ پیٹرا کی حرکت سے کسی کو چوٹ لگی مشکل ہو گا اسی لیے نقص امن کا فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔
’یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ پیٹرا کی حرکت لسانی بنیادوں پر تھی یا متاثرین کا تارکین وطن ہونا۔‘
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیٹرا نے ایک مرد کو ٹانگ اڑا کر گرایا جس کی گود میں ایک بچہ بھی تھا۔ یہ مرد اسامہ عبدالمحسن تھے جو شام میں فٹ بال کوچ تھے۔
اسامہ عبدالمحسن اور ان کا خاندان سپین میں رہائش پذیر ہیں اور سپین کے ایک فٹ بال کلب میں کوچ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







