چین میں پہاڑوں پر معلق شیشے کا پل بند کر دیا گیا

وسطی چین کا سب سے زیادہ تذکروں میں رہنے والا بلند ترین شیشے کا پل افتتاح کے 13 روز بعد ہی بند کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت علاقے میں ہنگامی طور پر مرمت کے کام کی منصوبہ بندی کر رہی اور جمعے کو پل بند کر دیا گیا تھا۔
حکام کی جانب سے پل کے دوبارہ کھولے جانے کے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
٭ <link type="page"><caption> پہاڑوں پر شیشے کا معلق پل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/08/160803_china_glass_bridge_gallery_mb" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> بلند ترین شیشے کا پل سیاحوں کےلیے کھول دیاگیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160820_glass_bridge_open_tk" platform="highweb"/></link>
تاہم امریکی نیٹ ورک سی این این کا کہنا ہے کہ ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ پہاڑیوں پر معلق پل ’سیاحوں کی بہت زیادہ تعداد سے متاثر ہوا تھا۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ پل پر کوئی حادثہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہی پل ٹوٹا یا اس میں کوئی دراڑ آئی۔
ہونان صوبے میں شینجیاجی کے مقام پر بنایا گیا یہ پل ’اوتار‘ نامی دو پہاڑی چوٹیوں کو ملاتا ہے۔ اس نسبت کی وجہ یہ ہے کہ اوتار نامی فلم یہاں ہی فلمائی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شینجیاجی پارک میں واقع شیشے کا ایک پل سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنا جو کہ 430 میٹر کی بلندی پر ہے اور یہ 300 میٹر گہری کھائی پر بنا ہوا ہے۔ اس کے اففتاح کے بعد اسے دنیا کا سب سے اورنچا اور لمبا شیشے کا پل قرار دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ دسمبر میں مکمل کیا گیا اور اس پر 34 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی۔
اس میں شیشے کی تین شفاف تہوں کے 99 حصے ہیں۔
حکام کے مطابق چھ میٹر چوڑے اس پل کو اسرائیلی آرکیٹیکٹ ہیم دوتان نے ڈیزائن کیا۔ وہ پہلے ہی دنیا بھر میں اپنی آرکیٹیکچر اور تعمیراتی کام کا ریکارڈ بنا چکے ہیں۔
پارک کے حکام کا کہنا تھاے کہ روزانہ 8000 لوگوں کو اس پل سے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ یہاں روزانہ اس سے دس گنا زیادہ تعداد میں لوگ آنا چاہتے تھے۔
حکام کی جانب سے پل کو بند کرنے اعلان چین میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ویبو پر کیا گیا۔
حکام کی جانب سے سیاحوں کی تعداد نہیں بتائی گئی تاہم کہا گیا کہ حکومت کو ہنگامی طور پر اسے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP







