جرمنی: پناہ گزین رہائشی علاقوں کا انتخاب نہیں کر سکتے

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کی ریاست بواریا کے نئے قانون کے تحت پناہ گزین اپنی مرضی سے اپنے رہائشی علاقے کاانتخاب نہیں کر سکیں گے بلکہ انہیں کچھ علاقے تجویز کیے جائیں گے۔
یہ نیا قانون جرمنی میں بڑے پیمانے پر آنے والے پناہ گزینوں کو معاشرے کا حصہ بنانے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔
حالانکہ یہ قانون متنازع ہے لیکن جرمنی کی دوسری ریاستیں بھی اس قانون کو اپنا سکتی ہیں۔
برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمین مک گیونز کے مطابق آج سے ریاست بواریا میں پناہ گزین یہ طے نہیں کر پائیں گے کہ انھیں کس علاقے میں رہنا ہے بلکہ اس کا فیصلہ حکام کریں گے کہ وہ کس گاؤں یا قصبے میں رہ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جس کسی بھی پناہ گزین کی پناہ کی درخواست منظور ہوگی اسے تین سال تک اس قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔
جب کسی بھی پناہ گزین کی ملازمت یا ٹریننگ کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو وہ کہیں بھی رہنے کے لیے آزاد ہوگا۔
بواریا کے حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد پناہ گزینوں کو جرمن معاشرے میں ضم کرنا ہے تاکہ وہ کسی ایک علاقے میں اپنے ہی ملک یا معاشرے کے لوگوں کے ساتھ جھرمٹ میں نہ رہیں بلکہ جرمن معاشرے کا حصہ بنیں۔
تاہم پناہ گزینوں کے امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں جرمن معاشرے میں ضم اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب جرمن زبان سکھانے کے زیادہ سے زیادہ کورسز کرائے جائیں اور پناہ گزینوں کو ملازمتوں اور ٹریننگ میں مدد دی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناقدین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ بتا کر کہ وہ کہاں رہ سکتے ہیں اور کہاں نہیں انکی آذادی چھینے اور انہیں ریاست پر مزید انحصار کرنے کے مترادف ہے۔.







