کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی کارروائی پر امریکی انتباہ

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں ترکی اور ترک حامی جنگجوؤں کی کرد فورسز کے ساتھ جاری جنگ ’ناقابلِ قبول ہے‘ اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خاتمے کے لیے قائم اتحاد کے لیے امریکی ایلچی بریٹ مکگروک کا ٹوئٹر پرکہنا تھا ’ایسے علاقوں جہاں دولتِ اسلامیہ موجود نہیں ہے یہ جھڑپیں ہونا گہری تشویش کا باعث ہے۔‘
ان کے بقول ترک فوج نے سرحد عبور کرنے پر گذشتہ ہفتے ’کرد دہشت گردوں‘ پر حملہ کیا تھا لیکن کرد ملیشیا وائی پی جی کا کہنا ہے کہ ترکی شام کے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
بریٹ مکگروک نے ٹویٹ کی ’امریکہ اس کارروائی میں ملوث نہیں اور نہ ہی اس کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کیا گیا تھا۔ ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔‘
’ہم تمام مسلح فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ روک دیں اور علاقے کو پر امن بنانے کے لیے اقدام کرتے ہوئے بات چیت کی راہ نکالیں۔‘
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر براک اوباما اپنے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوگان سے اتوار کو چین میں جی ایٹ سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کریں گے جس میں شام کی صورتِ حال کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کرد فورسز اور دولتِ اسلامیہ دونوں کو ہی سرحد سے دور ہٹانا ہے۔

ترک فوج اور اس کی اتحادی باغی فری سیریئن آرمی نے دولتِ اسلامیہ کو سرحدی شہر جرابلس سے نکال باہر کیا تھا اس کے بعد سے وہ ہمسایہ علاقوں میں امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فورس سیریا ڈیموکریٹک فورسز پر گولہ باری کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائی پی جی کا کہنا ہے کہ ان کی فوج علاقے سے نکل چکی ہے اور ترک اقدامات کا مقصد شامی علاقے پر’قبضہ‘ کرنا ہے۔
ترکی اپنے ہی ملک میں جنوب مشرقی علاقوں میں کرد بغاوت کے خلاف دہائیوں سے محوِ جنگ ہے اور اسے خدشہ ہے کے شمالی شام میں کُردوں کی کامیابیوں سے اس کے ملک میں کرد علیحدگی پسندی کو مزید تحریک نہ مل جائے۔
اتوار کو ترکی کے ایک فضائی حملے میں درجنوں لوگ مارے گئے تھے۔
انسانی حقوق کے ایک گروہ کے مطابق حملے میں 35 عام شہری جبکہ چار عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ترک فوج کا کہنا ہے کہ 25 افراد ہلاک ہوئے جو کہ تمام کرد عسکریت پسند تھے۔







