سیاہ فاموں’کےپاس کھونے کو بچا ہی کیا ہے‘

ٹرمپ اب تک سیاہ فام امریکی وٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنٹرمپ اب تک سیاہ فام امریکی وٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں

امریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے افریقی نژاد امریکی ووٹروں سے ایک براہ راست اپیل میں کہا ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کو بچا ہی کیا ہے اور اگر وہ انھیں ووٹ دیتے ہیں تو وہ ان کےلیے وہ کچھ کریں گے جو ڈیموکریٹک پارٹی کبھی نہیں کر سکی ہے۔؟

ریاست میشی گن میں اپنے خطاب کے دوران جہاں موجود شرکا میں تقریباً سبھی سفید فام شامل تھے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سیاہ فام ’ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اور ان کے ’سکول بھی اچھے نہیں ہیں۔‘

انھوں نے افریقی نژاد امریکیوں کے لیے وہ سب کچھ کرنے کا وعدہ کیا جو اس وقت اقتدار میں موجود ڈیموکریٹک پارٹی ان کے لیے نہیں کر سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ انھیں لوگوں کو ووٹ دیتے رہیں گے تو آپ کو وہی نتائج ملیں گے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حریف ہلیری کلنٹن کے بارے میں کہا کہ وہ بے روزگار ’سیاہ فام نوجوانوں‘ کی بجائے’ مہاجرین کو نوکری دیں گی۔‘

دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ’بہت لاعلمی، یہ حیرت انگیز ہے۔‘

مسٹر ٹرمپ پہلے ہی پیشنگوئی کر چکے ہیں کہ اگر سنہ 2020 میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونا چاہیں گے تو انھیں95 فیصد افریقین نژاد امریکیوں کے ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

ارپ پتی بزنس مین ٹرمپ کو ایسے سفید فام امریکیوں کی مضبوط حمایت حاصل ہے جو سفید فاموں کی برتری کی خواہش رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنارپ پتی بزنس مین ٹرمپ کو ایسے سفید فام امریکیوں کی مضبوط حمایت حاصل ہے جو سفید فاموں کی برتری کی خواہش رکھتے ہیں

خیال رہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر براک اوباما سیاہ فام امریکیوں میں ملک کی تاریخ کے سب سے مقبول صدر ہیں جنھوں نے سنہ 2012 میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے لیے 93 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

مگر افریقن امریکیوں کی حمایت کی جانب دیکھیں تو وہ ٹرمپ کے لیے مایوس کن ہے۔

حالیہ اندازوں کے مطابق دو فیصد سیاہ فام امریکی کہتے ہیں کہ وہ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے۔

ارپ پتی بزنس مین ٹرمپ کو ایسے سفید فام امریکیوں کی مضبوط حمایت حاصل ہے جو سفید فاموں کی برتری کی خواہش رکھتے ہیں۔

مسٹر ٹرمپ کو اس وقت سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جب انھوں نے اپنے ہی حامی سفید فاموں کی برتری کی حامی گروہ ’ کوو کلکس کلان‘ سے دوری اختیار کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کئی مواقعوں پر مختلف ریلیوں میں افریقی امریکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق کے مطابق ٹرمپ کے حامی ریلیوں میں بہت ہی معتصبانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔

جمعے کو روز اپنی تقریر میں جو کہ رواں ہفتے کے دوران ان کی تیسری تقریر تھی میں ٹرمپ نے سیاہ فام امریکی ووٹرز سے ایک بار پھر ووٹ کے لیے اپیل کی ہے۔

چند تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نیشنل پولز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بہت نیچے کی جانب جا رہی ہے اور اب انھیں اپنی حامیوں میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔

تاہم ٹوئٹر پر بہت سے تبصرہ نگار ٹرمپ کے اس رویے سے حیران پریشان بھی ہیں۔

ا۔