ٹرمپ نے ’ایران کو رقم کی ادائیگی‘ کا دعویٰ واپس لے لیا

ٹرمپ کے عملے نے اعتریاف کیا کہ ان کا دعوہ غلط تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنٹرمپ کے عملے نے اعتریاف کیا کہ ان کا دعوہ غلط تھا

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں رپبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو امریکی ڈالر بطور نقد رقم ادا کیے جانے کی ویڈیو دیکھنے کا دعویٰ واپس لے لیا ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ ایک ریلی کے دوران کیا تھا۔ ان کے عملے نے اعتراف کیا کہ یہ دعویٰ غلط تھا لیکن ٹرمپ نے اسی دعوے کو ایک دیگر ریلی کے دوران دہرایا تھا۔

یہ رقم اس وقت دی گئی تھی جب کچھ امریکی یرغمالوں کو چھڑوایا گیا تھا لیکن صدر اوباما کا کہنا تھا کہ یہ رقم امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے سے متعلق تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دعوے کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو ویڈیو دیکھی تھی اس میں یرغمالوں کو رہا کیا گیا تھا، پیسے نہیں دیے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ طے کیے جانے والے جوہری معاہدے کے مطابق دہائیوں پرانے فوجی سامان کے ایک ناکام سودے کے بعد ایران کو کل ملا کر 17 ارب ڈالر دے رہا ہے۔

اس ہفتے ڈانلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دکھائی دی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس ہفتے ڈانلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دکھائی دی ہے

اس ہفتے شائع ہونے والے ایک اخبار کے مطابق ایران میں 40 کروڑ ڈالر نقد رقم اس وقت پہنچائی گئی تھی جس وقت چار امریکی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

ٹرمپ سمیت رپبلیکن پارٹی کے کئی اراکین نے اس منتقلی کے وقت تنقید کی تھی۔

صدر اوباما نے نقد رقم اور قیدیوں کے تبادلے کے درمیان کسی بھی تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یرغمالوں کے لیے تاوان ادا نہیں کرتے۔‘

انھوں نے کہا کہ سخت مالی پابندیوں کی وجہ سے انھیں یہ ادائیگی کیش کی صورت میں دینی پڑی تھی۔

بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا تھا کہ انھوں نے پیسے دیے جانے کی ویڈیو فوٹیج دیکھی تھی۔

لیکن جمعرات کو ان کے عملے نے تسلیم کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔

عملے کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یرغمالوں کی رہائی کی فوٹیج کا ذکر کر رہے تھے۔

لیکن جمعرات کو ہی ٹرمپ نے ایک اور ریلی میں اپنا دعویٰ دہرایا۔

پھر جمعے کو اپنا دعویٰ بدلتے ہوئے انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’جو طیارہ میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا وہ 40 کروڑ ڈالر لے کر ایران جانے والا طیارہ نہیں بلکہ سوئٹزر لینڈ میں یرغمالوں سے بھرا طیارہ تھا!‘

یہ ہفتہ ڈونلڈ ٹرمپ پر بھاری پڑا ہے۔

گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن کے بعد ان کی حریف ہلیری کلنٹن نے ایک عوامی سروے میں ان کے مقابلے میں اہم برتری حاصل کی ہے۔