’ہماری مہم جتنی متحد اب ہے اس سے پہلے نہیں تھی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے پارٹی میں اختلافات کی خبروں کے باوجود اصرار کیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم متحد ہے۔
امریکی ریاست فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی مہم ’بہت اچھی چل رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ہلاک شدہ مسلمان امریکی فوجی کے والدین کو بار بار تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی صدارتی مہم تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔
ان کی انتخابی مہم کے عملے نے سی این این کو بتایا کہ انھیں ’محسوس ہو رہا ہے کہ وہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘
ڈیٹونا بیچ میں منعقدہ ریلی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مہم بہت اچھی چل رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ کبھی بھی اتنی متحد نہیں تھی۔۔۔ میں یہ کہوں گا کہ جب سے یہ مہم شروع ہوئی ہے یہ جتنی متحد اب سے اس سے پہلے نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ پال منافورٹ نے عدم اتحاد کی خبروں کا الزام ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن پر عائد کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کلنٹن کا ایک اور بیانیہ ہے جو وہ پیش کر رہی ہیں اور میڈیا اسے اٹھا رہا ہے۔‘
اس سے قبل رپبلکن جماعت کے ڈونر میگ وٹمین نے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جذباتی خطابت نے قوم کو نقصان پہنچایا ہے۔
رپبلکن جماعت کے سینیئر رکن جان ہاپر ہیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ ’ذہنی طور پر غیر متوازن‘ ہیں۔
حالیہ تنازع میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت کے دو سینییر رہنماؤں کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رپبلکن جماعت کے درجنوں سینیئر سیاست دان پہلے سے کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے لیے ووٹ نہیں دیں گے جن میں پارٹی کی جانب سے 2012 میں نامزد ہونے والے مٹ رومنی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی شامل ہیں۔







