کیا حکومتیں تاوان ادا کرتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAP
کیا حکومتیں تاوان ادا کرتی ہیں؟
امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا ہے کہ اُس نے ایران کو 40 کروڑ ڈالر مالیت کی رقم کی ادائیگی پانچ امریکیوں کی رہائی کے لیے ادا کی گئی۔ ذیل میں مغویوں سے متعلق ایسے دوسرے کیسز پر نظر ڈالی ہے جس میں ریاست کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے بعد رہائی ہوئی ہے۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے ایران کو ادا کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی نقد رقم پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے ’مقصد کے حصول‘ کے لیے استعمال کی گئی تھی۔
اس سے قبل ؤائٹ ہاؤس نے ایرانیوں کو دی جانے والی رقم کو امریکی قیدیوں کی رہائی سے منسوب کرنے کی تردید کی تھی۔
جنوری میں ایران میں قید پانچ امریکی کو سات ایرانی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا اور امریکہ نے اسی روز 40 کروڑ ڈالر کی رقم بذریعہ جہاز ایران تک پہنچائی تھی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی سے ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیرالتوا تنازع حل ہوگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری طور پر امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے رقم ادا نہیں کرتے۔ دوسرے یورپی ممالک بھی بظاہر تو یہی کہتے ہیں کہ وہ تاوان ادا نہیں کرتے ہیں لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایسا ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق سنہ 2008 سے اب تک شدت پسند تنظیم القاعدہ نے مغویوں کی رہا کے عوض 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمائے ہیں۔
ذیل میں چار ایسے کیسز کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جب حکومتوں نے اپنی شہریوں کی رہائی کے لیے یا تو تاوان ادا کیا اور دیگر ذرائع استعمال کیے۔
سنہ 2015 میں شام میں اٹلی کے امدادی کارکن
اٹلی سے تعلق رکھنے والے دو امدادی کارکنوں کو جولائی 2014 میں شام سے اغوا کیا گیا تھا اور جنوری سنہ 2015 میں اُن کی رہائی عمل میں آئی تھی۔
یہ دونوں امدادی کارکن شام کے صوبے حلب میں جاری فلاحی منصوبوں پر کام کر رہے تھے کہ انھیں شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کی رہائی کے عوض ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے ہیں اور قطر کی مصالحت کے بعد اُن کی رہائی عمل میں آئی ہے۔
سنہ 2014، شام میں فرانسیسی صحافیوں کا اغوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعص اطلاعات کے مطابق فرانس نے اپنے چار صحافیوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کیا۔
ان چاروں صحافیوں کو شام میں سنہ 2014 میں رہا کیا گیا اور اُن بعض اطلاعات کے مطابق اُن کی رہائی کے لیے فرانسیسی حکومت نے ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر ادا کیے لیکن فرانسیسی حکومت نے رہائی کے لیے تاوان کی ادائیگی کی تردید کی ہے۔
یہ افراد جون 2013 میں دو مختلف مقامات سے اغوا ہوئے ہیں۔
مسٹر فرنسکوا جنگی امُور کے ماہر صحافی تھے اور مسٹر ایلیس ایک فوٹوگرافر تھے جنھیں جون کے آغاز میں حلب جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔
دیگر دو صحافی مسٹر ہینن فرنچ میگزین سے وابستہ تھے جبکہ مسٹر ٹورز فرنچ جرمن ٹی وی کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے اور انھیں رقہ کے قریب سے اغو کیا گیا۔
اُس وقت فرانس کے وزیر خارجہ نے تاوان کی ادائیگی اور اغوا کاروں کو اسلحے کی فراہمی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی رہائی کے لیے ’مختلف‘ طرز کے مذاکرات کیے گئے۔
سنہ 2009 سوئس اور جرمن سیاح

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2009 میں شدت پسندوں نے مالی اور نائیجر کے سرحد کے قریب سوئٹزرلینڈ کے دو اور جرمنی کے ایک سیاح کو اغوا کیا گیا ہے۔
تین ماہ مغوی رہنے کے بعد انھیں جولائی میں رہا کر دیا گیا۔
سکیورٹی اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمن سیاح کی رہائی کے لیے ممکنہ طور پر تاوان ادا کیا گیا لیکن جرمنی کے حکام نے تاوان کی ادائیگی کی تردید کی ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ کی سرکاری دستاویزات رقم کی ادائیگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سنہ 2009 میں سوئس حکومت نے مغویوں کی رہائی کے لیے رقم کی ادائیگی کی تردید کی تھی اور ’سوئس حکام نے کہا تھا کہ مذاکرات میں کامیابی اور مغویوں کی رہائی کا سہرا مالی کے صدر کو جاتا ہے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوئس حکام نے زور دیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ نے نہ تو رہائی کے لیے مذاکرات کیے ہیں اور نہ ہی تاوان ادا کیا ہے۔
لیکن حکومتی اجلاس کے مینٹس کے مطابق چند ماہ قبل وزار دو سوئس شہریوں کی رہائی کے بدلے رقم ادا کرنے پر متفق ہیں۔
سنہ 2011 میں غلاد شالیٹ کی رہائی

،تصویر کا ذریعہAFP
ماضی میں اسرائیل نے تسلیم کیا تھا کہ اُس نے اپنے فوجیوں کی رہائی کے لیے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔
سنہ 2011 میں اسرائیل نے اپنی فوجی غلاد شالیٹ کی رہائی کے بدلے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کیا گیا اور حماس کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اسرائیل نے ایک ہزار سے زیادہ فلسطینوں کو رہا کیا گیا۔
یاد رہے کہ 25 سالہ اسرائیلی فوجی شالیٹ کو حماس کے شدت پسندوں نے 2006 میں اغوا کیا تھا۔







