’ایران کو رقم کی ادائیگی کا تعلق قیدیوں کی رہائی سے تھا‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے ایران کو ادا کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی نقد رقم پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے ’مقصد کے حصول‘ کے لیے استعمال کی گئی تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ رقم کی ادائیگی کے بارے میں مذاکرات قیدیوں کی رہائی سے الگ ہوئے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی امریکیوں کے ایران سے نکل جانے تک روک کر رکھی گئی تھی۔
٭<link type="page"><caption> ایران کی قید سے چار امریکی رہا، پابندیاں اٹھنے کا انتظار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160116_iran_american_prisoners_sh" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ’ایران کو 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تاوان نہیں تھی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160804_islamic_state_threat_us_tk" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ جنوری میں ایران میں قید پانچ امریکی کو سات ایرانی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیے گئے تھے۔
امریکہ نے اسی روز 40 کروڑ ڈالر کی رقم بذریعہ جہاز ایران پہنچائی تھی۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ یہ رقم قیدیوں کی رہائی کے لیے تاوان کے طور پر ادا کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی سے ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیرالتوا تنازع حل ہوگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جان کربی کا یہ بیان وال سٹریٹ جرنل کی اس رپوٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ نقد رقم کی ادائیگی ایران سے قیدیوں کے جہاز کی روانی پر منحصر تھی۔
یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ کی جانب سے سات ایرانی قیدیوں کو معافی دینے اور 14 کے ورانٹ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے پانچ امریکی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
اِن کی رہائی کے فوری بعد امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے سوئس فرانک اور یورو ڈبوں میں بند کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے ایران بھجوائے تھے۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ رقم فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے دی تھی لیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ فروخت روک دی گئی اور اب اس سلسلے میں لی گئی رقم واپس کی جا رہی ہے۔







