شام میں کارروائی کے لیے ایرانی ہوائی اڈہ استعمال کیا: روس

بیان کے مطابق ان طیاروں نے حلب، ادلب، اور دیر الزور میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبیان کے مطابق ان طیاروں نے حلب، ادلب، اور دیر الزور میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا

روس کی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے شامی شہروں حلب، ادلب اور دیر الزور عسکریت پسندوں کےاڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے مغربی ایران کے فوجی اڈے کا استعمال کیا ہے۔

ایک بیان کے مطابق روس کے بمبار طیارے ٹپولیو 3M22 اور سخوئی لڑاکا طیاروں نے بدھ کے روز ایران کے ہمدان کے ہوائی اڈے سے پرواز بھری۔

بیان کے مطابق ان طیاروں نے حلب، ادلب، اور دیر الزور میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گذشتہ برس سے شام کے صدر کی حمایت میں جاری مہم کے دوران روس نے شام کے اندر حملوں کے لیے کسی تیسرے ملک کا استعمال کیا ہو۔

ایران شامی صدر بشار الاسد کا بڑا حمایتی ہے اور سنہ 2011 سے شروع ہونے والے بغاوت کے بعد سے اسے بڑے پیمانے پر فوجی اور اقتصادی تعاون فراہم کرتا ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کے مطابق حالیہ مہینوں میں روسی اور ایرانی حکام نے فوجی تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔

گذشتہ ہفتے روس نے ایران اورعراق سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روسی کروز میزائل کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیں تاکہ وہ شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکیں۔

روس کی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق بدھ کو کیے جانے والے فضائی حملوں میں ادلب اور حلب میں جہادیوں کی تربیت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں شدت پسندوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی اور اسلحے کے پانچ بڑے ذخیرے تباہ ہوئے۔

بیان کے مطابق دیر الزور میں تین کمانڈ سنٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں سے متعلق خبر اس وقت سامنے آئی جب ایک روز قبل ہی روس کی وزراتِ دفاع نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں میں امریکہ سے تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا۔

بدھ کو ہی انسانی حقوق کے نگراں ادارے ہیومن رائٹس واچ روسی اور شامی جہاز شہری علاقوں میں آتشگیر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جو عالمی قوانین کے خلاف ہے۔ تاہم ماسکو نے اس کی تردید کی ہے۔

تنظیم کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ادلو اور حلب میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں پانچ سے دس اگست کے دوران آتش گیر ہتھیاروں سے کم سے کم 18 حملے کیے گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ حملوں میں کم سے کم 12 شہری زخمی ہوئے۔