شام کا اہم دفاعی شہر دولتِ اسلامیہ کے’قبضے سے آزاد‘

جون سے اس شہر کو جنگجوؤں نے مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجون سے اس شہر کو جنگجوؤں نے مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا تھا

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِقبضہ شام کے شہر منبج‎‎ پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع یہ شہر دفاعی اعتبار سے اہم سمجھاجاتا ہے اور گذشتہ دو برس سے اس پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ تھا۔

برطانیہ سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شہر کے وسط میں ابھی بھی دولتِ اسلامیہ کے کچھ جنگجو موجود ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے حمایت یافت کرد اور عرب جنگجوؤں کے اتحاد نے منبج‎‎ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تقریباً دو ماہ قبل کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

جون سے اس شہر کو جنگجوؤں نے مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا تھا۔

اس کارروائی کے دوران امریکی فضائیہ کے طیارے بھی شہر میں موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

امریکی فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں شہر سے بھاگنے والے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں پھنسے 70,000 عام شہریوں کو خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔

کرد اور عرب جنگجوؤں کے اتحاد کے ترجمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ شہر کا 90 فیصد حصہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروا لیا گیا ہے۔

منبج‎‎ کو ترکی سے ملانے والی سٹرک دولتِ اسلامیہ کے لیے شام میں جنگجوؤں اور رسد منگوانے کا ایک اہم راستہ ہے۔

خیال رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ افراد تاحال ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔