حلب میں باغیوں پر شامی فوج کے شدید فضائی حملے

حزب اختلاف کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے حلب کے علاقے راموسہ میں ہونے والے فضائی حملوں میں روسی جنگی طیاروں نے بھی شرکت کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے حلب کے علاقے راموسہ میں ہونے والے فضائی حملوں میں روسی جنگی طیاروں نے بھی شرکت کی ہے

شام کے شہر حلب میں صدر بشار الاسد کی فوجوں کی جانب سے شدید بمباری کی جا رہی جبکہ گذشتہ دنوں حکومت مخالف باغیوں نے حلب کا محاصرہ توڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔

گذشتہ دنوں حکومت مخالف باغیوں نے حلب کا محاصرہ توڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔

شامی حکومت کی جانب سے ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں بظاہر شہر کے جنوب مغربی علاقوں میں فضائی بمباری کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل حکومت مخالف باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے حلب کا کئی ہفتوں سے قائم محاصرہ توڑ دیا ہے تاہم شامی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔

اب بھی ڈھائی لاکھ کے قریب افراد مبینہ طور پر محصور علاقوں میں موجود ہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں حلب میں باغیوں کے زیرانتظام علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے حلب کے علاقے راموسہ میں ہونے والے فضائی حملوں میں روسی جنگی طیاروں نے بھی شرکت کی ہے۔

دریں اثنا باغی اتحاد نے کہا ہے کہ وہ جنگجوؤں کی تعداد دوگنی کر دیں گے اور نئے حملے کرکے سارے شہر کو واپس حاصل کر لیں گے۔

حلب پر قبضے کے لیے جنگ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحلب پر قبضے کے لیے جنگ جاری ہے

اطلاعات کے مطابق اتحاد نے کہا کہ ’جب تک کہ ہم حلب کے قلعے پر اپنی فتح کا پرچم نہیں لہرا دیتے اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا حصار بدستور قائم ہے اور یہ کہ باغیوں کو کوئی اہم کامیابی نہیں ملی ہے۔

بہر حال ایسا نظر آ رہا ہے کہ حکومت باغیوں کو مزید کچھ حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لیے مزید فوج تعینات کر رہی ہے۔

حکومتی افواج نے جولائی میں باغیوں کے زیر قبضہ حلب کو منقطع کر دیا تھا۔

حلب کبھی شام کا کاروباری دارالحکومت تھا اور اسے اپنی فن تعمیر اور آثار قدیم پر ناز تھا۔

لیکن پانچ سال سے جاری جنگ میں اس کی بیشتر چیزیں تباہ و برباد ہو چکی ہیں یا لوٹ لی گئی ہیں۔