’ترکی کا عدالتی نظام آزادانہ انصاف سے عاری ہے‘

،تصویر کا ذریعہREUTERS
امریکہ میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن نے ترک حکام کی جانب سے ان کے خلاف بغاوت کی کوشش کے الزام میں جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ترکی کا عدالتی نظام آزادانہ انصاف سے عاری ہے، یہ وارنٹ صدر اردوغان کی جانب سے آمریت کی جانب اور جمہوریت سے دور جانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
٭ <link type="page"><caption> گولن تحریک کیا ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160803_gulen_movement_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> گولن کے ادارے دنیا بھر کے لیے خطرہ ہیں: مولود اوغلو</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160802_turkish_fm_pak_visit_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
ترک حکومت بغاوت کی ناکامی کے بعد سے امریکہ سے انھیں ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور جمعرات کو اس سلسلے میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق وارنٹ میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے لیے فتح اللہ گولن کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فتح اللہ گولن نے اس سے قبل بھی گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا تاہم ترکی کی حکومت کا اصرار ہے کہ بغاوت کی یہ کوشش انھی کے کہنے پر کی گئی تھی۔
گولن کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم روادار اسلام کی تبلیغ کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس ماہ کے اواخر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔
اس بات کا انکشاف صدر طیب اردوغان نے ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کو دیے گئے بیان میں کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا: ’میرے خیال میں ان کے وزیر خارجہ 21 اگست کو آرہے ہیں۔‘
صدر اردوغان نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی کی جانب سے وزارت خارجہ اور وزارت انصاف پر مشتمل ایک وفد امریکہ کا دورہ کرنے والا ہے جہاں وہ فتح اللہ گولن کے بغاوت کی کوشش میں ملوث ہونے سے متعلق امریکی حکام کو شواہد پیش کرے گا۔







