ترکی میں ناکام بغاوت، مزید 1389 فوجی برطرف

ترک حکومت نے بغاوت کی ناکام کوشش میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید 1389 فوجیوں کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔
ترکی میں رواں ماہ صدر طیب اردغان کی حکومت کے خلاف ہو نے والی ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد سے اب تک برطرف کیے جانے والے فوجیوں کی تعداد تین ہزار ہوگئی ہے۔
٭ <link type="page"><caption> ’ترکی پر تنقید کرنے والے اپنے کام سے کام رکھیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160729_turkey_erdogan_lawsuit_us_generals_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ترکی کا درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160727_turkey_media_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل سنیچر کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے خفیہ ادارے اور مسلح افواج پر ان کا براہ راست کنٹرول ہو۔
خیال رہے کہ ترک صدر بغاوت کی ناکام کوشش کا الزام امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن پر لگاتے ہیں تا ہم فتح اللہ گولن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
صدر اردوغان کے مطابق تمام فوجی سکول بند کر دیے جائیں گے اور ایک قومی عسکری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اترک صدر نے کہا ہے کہ فوج کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے اسلحے میں اضافہ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
صدر اردوغان کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان ترکی میں بغاوت کی کوشش کی ناکامی کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی ایک کڑی ہے۔
صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ ترکی کے خفیہ ادارے اور فوجی سربراہ کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے آئینی میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔
پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہےاور متعدد صحافی بھی زیرِ حراست ہیں۔







