سینیگال کی خادمہ کو’سعودی میں پھانسی ہو سکتی ہے‘

سوموار کو دارالحکومت ڈکار میں حکومت سے ان کی رہائی کے لیے مطالبہ کیا گيا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسوموار کو دارالحکومت ڈکار میں حکومت سے ان کی رہائی کے لیے مطالبہ کیا گيا

سینیگال کی شہری مبایانگ ڈیوپ کو کئی ہفتے پہلے سعودی عرب میں اپنی مالکن کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے بھائی ممادو ڈیوپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سمگلروں نے ایک اچھی نوکری کے وعدے کے ساتھ ان کی بہن کو دھوکہ دیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گيا۔

22 سالہ خاتون سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کی جیل میں ہیں اور اپنے مقدمے کی سماعت کی منتظر ہیں۔

انسانی حقوق کے رضاکاروں کو خدشہ ہے کہ ڈیوپ کو پھانسی ہو سکتی ہے جبکہ ان کا تین سال کا ایک بیٹا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا انھیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے یا نہیں۔

سوموار کو سینیگال کے دارالحکومت ڈکار کی جامع مسجد میں مظاہرین یکجا ہوئے اور انھوں نے مبایانگ ڈیوپ کے لیے معافی کی اپیل کی۔

ان کے بھائی نے کہا کہ انھیں ایک عرصے سے اپنی بہن کے بارے میں علم نہیں ہے اس لیے پریشان ہوکر انھوں نے سینیگال کی وزارت خارجہ کو خط لکھا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کے جواب میں ہمیں وزارت سے بتایا گیا کہ انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

’یہ سخت پریشانی کا باعث ہے کہ آپ کی بہن بیرون ملک مشکلات میں ہو اور آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ نہ آپ وہاں جا سکتے ہیں نہ فون کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ سمگلروں نے ان کی بہن کو بتایا تھا کہ اگر وہ سعودی عرب جاتی ہیں تو انھیں ایک ہزار ڈالر سے زیادہ کی ماہانہ تنخواہ ملے گی۔

لیکن انھوں نے سینیگال کے ریڈیو سٹیش آرایف ایم کو بتایا کہ وہاں پہنچ کر ان کی بہن نے شکایت کی اور گھر واپسی کی خواہش ظاہر کی۔

سینیگل کی وزیر خارجہ مانکیور اینڈیائ نے بتایا کہ سینیگال دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح ’انسانی سمگلروں کا ایک شکار‘ ہیں اور یہ کہ حکومت ان کے خلاف اقدامات کرے گي۔

دوسری جانب سینیگال کے سفیر بدھ کو سعودی عرب میں مز ڈیوپ سے جیل میں ملاقات کرنے والے ہیں۔