سعودی خواتین اُوبر سے ناراض کیوں؟

،تصویر کا ذریعہFAYEZ NURELDINEAFP
جب سعودی عرب نے مشرقی وسطیٰ میں توسیع کی خواہاں ٹیکسی کمپنی اوبر میں ساڑھے تین ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کی تو ایک چیز جو ممکنہ طور پر اس کے ذہن میں تھی وہ یہ کہ یہ خطہ بڑی حد تک خواتین صارفین کا خطہ ہے۔
سعودی عرب میں خواتین خود گاڑی نہیں چلا سکتیں اور اوبر اس قبل یہ کہہ چکا ہے کہ سعودی عرب میں اس کے صارفین کی 80 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔
اوبر سروس پہلی مرتبہ سعودی عرب میں سنہ 2014 میں متعارف کروائی گئی اور اسے توقع تھی کہ وہ اپنے مقامی حریف کاریم کے ساتھ ایپ لانے کر ایسے مسائل حل کر سکتی ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو صرف ان کا کوئی رشتے دار یا نجی ڈرائیور ہی کہیں لے جا سکتا ہے۔
اوبر کی اس حالیہ سرمایہ کاری کا مطلب خواتین کے لیے مزید ٹرانسپورٹ کی دستیابی اور تیل کے علاوہ دیگر صنعتوں کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
یہ تو ہر طرح سے جیت ہوئی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بعض سعودی خواتین نے سوشل میڈیا پر ایک طویل بحث کا آغاز کر دیا کہ وہ دنیا میں ایسے واحد ملک میں رہتی ہیں جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے لیکن ’اوبر کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے بڑے معاہدے نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں کہ ہمیں کہیں آنے جانے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا ہو گا۔‘
ان خواتین میں سے کئی نے اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ ایک توانھیں خود تو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے، اوپر سے ان کی حکومت اور اوبر خواتین کو ’پیسوں کی مشین‘ کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور خواتین کے حقوق کی کمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس معاہدے کے اعلان کے بعد ہیش ٹیگ ’#سعوديات_يعلن_مقاطعہ_اوبر‘ یعنی (سعودی خواتین اوبر کے بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہیں)نے سعودی عرب میں مقبولیت حاصل کرنا شروع کیا۔ گذشتہ ہفتے ٹوئٹر ہر اس ہیش ٹیگ کا 8500 بار ذکر ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض نے اس اقدام پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ وژن 2030 جس کا حال ہی میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے اعلان کیا تھا وہ خواتین کے مخالف ہو گا۔
جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ خواتین کا مرد ڈرائیوروں کے ساتھ گاڑی میں اکیلے ہونا بھی اسلامی قوانین کے خلاف ہو گا۔
آخر میں بحث گھوم کر سعودی خواتین کو خود گاڑی چلانے کی اجازت دی جانے کی طرف واپس آگئی۔
تاہم فی الحال سعودی حکومت کی کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
اوبر کے ترجمان نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’جی بالکل ہمارے خیال میں خوتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا اس دوران ہم نے نقل حرکت کی ایک غیر معمولی سہولت فراہم کی جو اس سے قبل موجود نہیں تھی اور ہمیں اس پر فخر ہے۔‘







