یورپ میں دہشت گردی کے بڑے واقعات

،تصویر کا ذریعہANNE CHRISTINE POUJOULAT AFP Getty Images

یورپ کا اہم ملک فرانس جمعرات کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کے ایک حملے کا نشانہ بنا ہے۔ جنوبی شہرنیس میں حملہ آور نے اپنے ٹرک تلے کچل کر 84 افراد کو ہلاک کیا ہے جبکہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

رواں دہائی کے آغاز کے بعد سے براعظم یورپ کے مختلف ممالک شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ یہاں ان حملوں کی مختصر تفصیل دی جا رہی ہے۔

28 جون 2016، ترکی

ترکی کے شہر استنبول کے بین الاقوامی اتاترک ہوائی اڈے پرتین خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے جن میں 42 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں 13 غیرملکی بھی شامل تھے۔

کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

22 مارچ 2016، بیلجیئم

بیلجیئم کے دارالحکومت <link type="page"><caption> برسلز کا ہوائی اڈہ اور شہر کا میٹرو سٹیشن تین دھماکوں کا نشانہ بنا </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/03/160322_brussels_blasts_zis" platform="highweb"/></link>جو کہ خودکش تھے۔ ان حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 150 سے زیادہ تھی۔

وزیرِ اعظم شارل میشیل نے ان حملوں کو ملک کی تاریخ کا ’سیاہ لمحہ‘ قرار دیا۔

13 مارچ 2016، ترکی

اس مرتبہ خودکش حملہ آور کا ہدف ترک دارالحکومت <link type="page"><caption> انقرہ کا ایک مصروف اور پرہجوم علاقہ کیزلے تھا۔ دھماکے میں 34 افراد کی جان گئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/03/160313_ankara_blast_zh" platform="highweb"/></link> جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کردش فریڈم ہاکس نامی جنگجو گروہ نے قبول کی۔

،تصویر کا ذریعہbelgium police

13 نومبر 2015، فرانس

فرانس کا دارالحکومت 13 نومبر کو اس وقت دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا جب <link type="page"><caption> شہر کے چھ مقامات پر شدت پسندوں نے ریستورانوں، موسیقی کی تقریب اور فٹبال سٹیڈیم کو نشانہ بنایا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151114_paris_attack_live_ra" platform="highweb"/></link> ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ فرانسیسی صدر نے اس کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔

7 جنوری 2015، فرانس

پیرس میں متنازع سیاسی رسالے چارلی ایبڈو کے دفتر اور ایک یہودی سپر مارکیٹ پر مسلح حملہ آوروں نے سلسلہ وار حملوں میں 17 افراد کو ہلاک کر دیا۔

پہلے <link type="page"><caption> سعید اور شریف کواشی نامی دو بھائیوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کر دی </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/01/150107_paris_magazine_attack_sq" platform="highweb"/></link>جس سے 12 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ایک اور شدت پسند نے ایک یہودی سپر مارکیٹ میں مزید افراد کو نشانہ بنایا۔

یہ تمام حملہ آور پولیس سے مقابلے میں مارے گئے۔

،تصویر کا ذریعہAP

24 مئی 2014، بیلجیئم

برسلز کے یہودی عجائب گھر میں کلاشنکوف سے مسلح شخص کی فائرنگ سے چار افراد مارے گئے۔ہلاک شدگان میں دو اسرائیلی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق بیلجیئم اور ایک کا فرانس سے تھا۔

<link type="page"><caption> حملہ آور کا نام مہدی نموش بتایا گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/09/140906_jewish_museum_gun_suspect_was_captor_syria_tim" platform="highweb"/></link> جسے بعد ازاں فرانس سے گرفتار کر کے بیلجیئن حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا تعلق شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بتایا گیا۔

19 مارچ 2012، فرانس

شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک ہونے کے دعویدار محمد مراح نامی شخص نے فرانس کے جنوبی شہر تولوز میں فائرنگ کر کے یہودی سکول کے تین طلبا، ایک ربی اور تین فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔<link type="page"><caption> فرانسیسی پولیس نے 32 گھنٹے کے محاصرے کے بعد حملہ آور کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2012/03/120322_france_meerah_dead_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

22 جولائی 2011، ناروے

،تصویر کا ذریعہAFP

ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند نظریات رکھنے والے حملہ آور<link type="page"><caption> آنرش بہرنگ بریوک نے پہلے دارالحکومت اوسلو میں ایک بم دھماکہ کیا اور اس کے بعد یوٹویا نامی جزیرے پر نارویجن لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں گھس کر فائرنگ کر دی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2012/04/120417_breivik_statement_sa" platform="highweb"/></link> اور ان واقعات میں 77 افراد جان سے گئے جن میں سے بیشتر نوجوان تھے۔

ان حملوں کے بعد بریوک کو حراست میں لے لیا گیا اور عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد انھیں 21 برس قید کی سزا سنائی۔