ترکی: ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی، ملک میں سوگ
استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ترکی میں سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ حملےمیں ہلاک ہونے افراد کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 13 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
استنبول کے گورنر واسب ساہن کے مطابق اتاترک ایئرپورٹ پر مرنے والوں میں ترکی کے 25 شہری جبکہ 13 غیر ملکی شامل ہیں جن میں سے تین کے پاس دوہری شہریت تھی۔
دہشت گردی کی اس واردات میں مرنے والے غیر ملکیوں میں سعودی عرب کے پانچ، عراق کے دو جبکہ چین، ایران، ازبکستان، تیونس، اردن اور یوکرین کا ایک ایک شہری شامل ہیں۔
ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 239 بتائی گئی ہے جن میں سے 41 اب تک انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں ہیں جبکہ 100 سے زیادہ کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطاقب حملے میں زخمی ہونے والا ایک ترکی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے۔ حکام کے مطابق یہ شخص ایئر پورٹ پر ایک کیفے میں کام کرتا تھا۔
استنبول کے گورنر نے صحافیوں کو بتایا:’ تین خودکش حملہ آوروں نے یہ حملہ کیا۔‘
اتاترک ایئر پورٹ کو بدھ کی صبح پروازوں کے لیے دوبارپ کھول دیا گیا جبکہ عملہ بدھ کی صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں بکھرے ملبے، تاروں کو صاف کرتا رہا ہے اور اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد ہوائی اڈے پر گشت کرتی رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف ٹرمینل کا داخلی راستہ تھا جس میں سے ایک نے کلاشنکوف سے فائرنگ بھی کی اور پھر تینوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

روئٹرز کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ حملہ آوروں کو ہوائی اڈے کے داخلی راستے پر روکنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس افسر ڈیپارچر لاؤنج میں داخل ہونے والے ایک حملہ آور پر فائرنگ کر کے اسے زخمی کرتا ہے اور فرش پر پڑا زخمی حملہ آور اسی دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیتا ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ استنبول ایئر پورٹ پر حملوں کا مقصد معصوم لوگوں کے خون اور تکلیف کے ذریعے ان کے ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن موقف اپنائے۔
ترکی میں گذشتہ برس سے اب تک جتنے دھماکے ہوئے ہیں ان کی ذمہ داری یا تو کرد ملیشیا یا پھر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ قبول کرتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دفاعی اُمور پر بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ استنبول میں ہونے والا دھماکوں میں خودکش حملہ آور خود کار ہتھیاروں سے لیس تھے عموماً دولت اسلامیہ اس طرح سے حملہ کرتی ہے۔
ان کے مطابق ترکی کو دو اطراف سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اور کرد ریاست میں علحیدگی پسند کرد باغیوں سے۔
جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے ترکی میں کردش ملیشیا اور دولتِ اسلامیہ کے حملوں سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
استنبول پر حملے کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے امریکی شہریوں کے لیے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوامی اور سیاحتی مقامات پر جاتے وقت ہوشیار رہیں۔
استنبول کا کمال اتاترک ایئر پورٹ یورپ کا تیسرا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے اور گذشتہ برس چھ کروڑ دس لاکھ مسافروں نے اسے استعمال کیا۔
ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان کشیدگی اور ہمسایہ ملک شام میں جاری تنازع کی وجہ سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
رواں ماہ ہی استنبول کے وسطی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔








