ریفرنڈم کے اثرات اگلے پانچ برس میں سامنے آئیں گے: چین

 2005 سے 2015 کے درمیان چین برطانیہ میں تقریباً 30 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن 2005 سے 2015 کے درمیان چین برطانیہ میں تقریباً 30 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے

چین کے معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کا یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ عالمی معیشت پر اثر ڈالے گا۔

چین کے وزیرِ خزانہ لوجیوی نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے مضمرات اور اثرات اگلے پانچ سے دس برس میں سامنے آئیں گے۔

چین کے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کی کمیٹی کے رکن ہوانگ ژپنگ کے بقول برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو خیرباد کہنا عالمگیریت کے اختتام کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ چین اور دنیا کے مفاد کے خلاف ہوگا۔

بین الاقوامی قانونی فرم ’بیکر اینڈ میکنزی‘ کے مطابق گذشتہ برس برطانیہ میں چین نے تین اعشاریہ تین ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی تھی۔

سنہ 2005 سے 2015 کے درمیان چین برطانیہ میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ برطانیہ کے موقعے پر وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے 40 ارب پاؤنڈ کے دو طرفہ معاہدوں کا اعلان کیا تھا۔

عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر کے حصص بازاروں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنعالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر کے حصص بازاروں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں

چینی وزیرِ خارجہ کے بقول ریفرنڈم کا نتیجہ عالمی معیشت پر اثرانداز ہوگا تاہم یہ اثرات کیا ہوں گے اس بات کی پیشنگوئی کرنا مشکل ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ریفرینڈم کے بعد عالمی منڈی میں گراوٹ ضرورت سے زیادہ ردِعمل تھا۔ ’عالمی مارکیٹس کا ردِ عمل شاید زیادہ تھا ، صورتحال کا ٹھنڈے دل سے غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘

یاد رہے کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دینے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں دس فیصد تک کمی ہوئی تھی اور ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ ایک اعشاریہ 33 سینٹس پر آ گیا تھا جو سنہ 1985 کے بعد سے پاؤنڈ کی کم ترین سطح ہے۔

جاپانی ین کے مقابلے میں بھی پاؤنڈ کی قدر میں گیارہ اعشاریہ چار فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جاپان نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ین کی قدر میں اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔

عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر کے حصص بازاروں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اتوار کو سعودی عرب کی سٹاک ایکسچینج میں تین اعشاریہ سات فیصد گراوٹ آئی ہے۔