امریکہ کی طالبان کے نئے رہنما کو مذاکرات کی پیشکش

،تصویر کا ذریعہ
امریکہ نے افغان طالبان کے نئے رہنما مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کو قیام امن کے مذاکرات کی میز پر آنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔
بدھ کو امریکی دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ طالبان کے نئے رہنما کے پاس مذاکرات کا موقع موجود ہے اور امریکہ کو اُمید ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے صوبے بلوچستان میں افغان طالبان کے سابق رہنما ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد افغان طالبان نے مولوی ہبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا رہنما منتخب کیا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کی حکومت نے افغان طالبان کے نئے رہنما مولوي ہبت اللہ اخونزادہ سے کہا ہے کہ جنگ ختم کریں یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں کہا کہ امریکہ طالبان کے نئے رہنما سے اُمید رکھتا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ منتخب کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اُن کے پاس امن کا انتخاب کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کا راستہ موجود ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس موقعے سے فائدہ اُٹھائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ افغان طالبان کے نئے رہنما ملا ہبت اللہ اخونزادہ کا نام امریکہ کی دہشت گرد افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
اگر ملا ہبت اللہ مذاکرات نہیں کرتے تو کیا وہ امریکہ کا اگلا نشانہ ہوں گے؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اس بات کی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ اپنی قومی سلامی کے مفاد میں کس کو نشانہ بنائے گا۔
یاد رہے کہ طالبان کے سابق رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ اُن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو امریکی افواج کے خلاف براہِ راست حملوں کے منصوبے بندی کرتے ہیں۔







