شامی شہر ديرالزور میں ہسپتال پر دولتِ اسلامیہ کا حملہ

دولتِ اسلامیہ کا صوبہ دير الزور کے بیشر علاقوں پر قبضہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کا صوبہ دير الزور کے بیشر علاقوں پر قبضہ ہے

شام کے شہر دير الزور میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ایک ہسپتال پر حملے میں کم از کم حکومت کے حامی 20 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ طبی عملے کے متعدد ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے۔

شام میں کام کرنے والے حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق سنیچر کو دير الزور کے مغرب میں واقع الاسد ہسپتال اور اس کے اطراف پر دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حملہ کیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے برطانیہ میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرئین آبرویٹری اور سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت فورسز نے ہسپتال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تاہم ابھی تک ہسپتال سے یرغمال بنائے جانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

دیر الزور کے زیادہ تر حصے پر اس وقت دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندیر الزور کے زیادہ تر حصے پر اس وقت دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے

روئٹرز نے ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 35 بتائی ہے جبکہ سیرئین آبرویٹری کے مطابق سکیورٹی سے جھڑپوں میں دولتِ اسلامیہ کے 24 شدت پسند بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ کا صوبہ دير الزور کے بیشر علاقوں پر قبضہ ہے اور اس نے تقریباً دو برس سے دير الزور شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ شہر میں حکومت کے زیر کنٹرول بچ جانے والے علاقوں پر قبضہ کیا جا سکے۔

سیئرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اب شہر کا تقریباً 60 فیصد حصہ دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے جبکہ ڈھائی لاکھ کے قریب افراد شہر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس وقت شام کے زیادہ تر علاقوں میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی جاری ہے تاہم اس میں دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروہ النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں