بدعنوانی کےخلاف عالمی لائحہ عمل کےلیےلندن میں کانفرنس

،تصویر کا ذریعہ
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بارہ مئی کو انسداد بدعنوانی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے ہیں جس میں بدعنوانی کےخاتمے کے لیے عالمی اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس کانفرنس کا انعقاد پاناما لیکس کے انکشافات کے کچھ ہفتوں بعد ہو رہا ہے اور کئی ایسے ملکوں کے رہنما بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے جن کے نام پاناما لیکس میں سامنے آچکے ہیں۔
اس کانفرنس کے انعقاد کے مقاصد میں بدعنوانی کو روکنے کےلیے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری ہے۔
کانفرنس میں کرپشن کو روکنے کے لیے ایسے قوانین پر اتفاق رائےحاصل کرنے کی کوشش کی جائےگی جن کی مدد سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کی گئی دولت کو کمپنی کےاصل مالک کا نام صیغہ راز میں رکھ کر دولت کو نہ چھپا سکیں۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کانفرنس کے انعقاد سے صرف دو روز قبل ملکہ برطانیہ سے بات کرتے ہوئے افغانستان اور نائجیریا کو کمال کے بدعنوان ملک کہہ کر انسداد بدعنوانی کانفرنس کو اخبارات کی زینت بنا چکے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون آف شور کمپنیوں کے ذریعے دولت کو چھپانے کےخلاف آواز آٹھانے والے پہلے عالمی رہنما ہیں۔ پاناما لیکس میں اپنے والد این کیمرون کی کپمنی کا نام آنے کے باوجود وزیر اعظم کمیرون بارہا رازادی کے کلچر کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔
برطانیہ نے سنہ 2010 سے آف شور کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس چوری کو روکنے کے اقدامات شروع کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے سے کم از کم دو ارب پونڈ آف شور کمپنیوں سے واپس برطانیہ میں لائے جا چکےہیں۔

،تصویر کا ذریعہARG
اس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کے علاوہ کاروباری دنیا، سول سوسائٹی، اور فیفا اور یوایفا جیسی کھیلوں کی بڑی تنظیموں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ جی 20 ممالک میں سے پہلا ایسا ملک ہے جس نے ایک سینٹرل رجسٹری بنائی ہے جہاں سے کسی بھی کمپنی کے اصل مالکوں کے کوائف حاصل ہو سکیں گے۔ یہ سینٹرل رجسٹری جون 2016 میں شائع ہو جائے گی۔
پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدھی سے زیادہ آف شور کمپنیاں برطانیہ کے زیر انتظام جزائر میں رجسٹرڈ ہیں۔
برطانوی زیر سرپرستی جزائر، ورجن آئی لینڈ اور کیمن آئی لینڈ کی معیشت ہی آف شور کمپنیوں کے گرد گھومتی ہے اور ان جزائر کو ’ٹیکس ہیون‘ تصور کیا جاتا ہے جہاں کمپنی کے مالک اپنے نام کو ضیغہ راز میں رکھ کر اپنی دولت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں سول سوسائٹی برطانیہ سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ برطانیہ اپنے زیر سرپرستی جزائر کو ایسے قوانین لاگو کرنے پر مجبور کرے جس طرح کے قوانین برطانوی سرزمین پر نافذ ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو آف شور کمپنیاں اپنے مالک کا نام صیغہ راز میں نہیں رکھ سکیں گی۔
برطانیہ پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایسی آف شور کمپنیوں کو برطانیہ میں جائیدار خریدنے کی اجازت دیتا ہے جن کے اصل مالکوں کے نام افشا نہیں کیے جاتے ہیں اور وہ بدعنوانی کے ذریعے کمائی گئی دولت سے برطانیہ میں پر تعیش گذار سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے بدلے ’گولڈن ویزا‘ کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔







