پاناما لیکس کے دوسرے راؤنڈ میں’درجنوں پاکستانی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس کی جانب سے پاناما پیپرز کی دوسری قسط جاری کر دی ہے جس میں مزید دو لاکھ آف شور کمپنیوں میں امرا کی دولت کی تفصیلات موجود ہیں۔
پیر کی شب انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس یعنی آئی سی آئی جے موساک فونسیکا کے لیک کی جانے والی دستاویزات کی مزید تفصیل گرینج کے معیاری وقت کے مطابق شام چھ بجے شائع کی گئیں۔
ان دستاویزات میں دو سو سے زیادہ پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر شائع کیے جانے والے ڈیٹا میں تین پاکستانی آف شور کمپنیاں اور 150 سے زائد پاکستانیوں کے پتے شامل ہیں۔
یہ دستاویزات offshoreleaks.icij.org پر دستیاب ہیں۔
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات وکی لیکس کی طرح ایک جگہ نہیں ڈالی گئیں بلکہ اس میں دو لاکھ آف شور کمپنیوں میں ان امرا کے نام شامل ہیں جنھوں نے اپنی دولت ان کمپنیوں میں رکھی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاناما لیکس کے پیچھے شخص نے حال ہی میں اپنی شناخت ’جان ڈو‘ کے نام سے کرائی ہے۔ انھوں نے ایک سال قبل جرمنی کے ایک اخبار کو 2.6 ٹیرا بائٹس کا ڈیٹا فراہم کیا تھا۔
یہ ڈیٹا موساک فونسیکا لا فرم کا ہے جو آف شور کمپنیاں تخلیق کرنے اور چلانے میں مہارت رکھتی ہے۔ اس ڈیٹا میں چار دہائیوں کی معلومات موجود ہیں۔
’اعداد و شمار کا ڈھیر نہیں‘
پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک جن بڑی بڑی شخصیات کے مالی معاملات پر لے دے ہو رہی ہے ان میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، روس کے صدر ولادیمر پوتن، یوکرین کے پیٹرو پورشنکو اور فٹبال کے مشہور کھلاڑیوں کے علاوہ فلم کی دنیا کی کچھ مشہور شخصیات کے نام شامل ہیں۔
موسیک فونسیکا کا کہنا ہے کہ آج تک کسی نے ان پر کسی گھپلے یا مجرمانہ فعل کا الزام نہیں لگایا ہے اور کمپنی کے کھاتوں کے تفصیلات چرائی گئی ہیں۔
آف شور کمپنیاں غیر قانونی نہیں ہوتیں لیکن ان کا مقصد اکثر سرمایہ کے حصول کے ذرائع اور اس کے مالکان کو خفیہ رکھنا اور ٹیکسوں سے بچنا ہوتا ہے۔
جان ڈو نامی شخص کی طرف سے ایک جرمن اخبار کو ایک سال قبل ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات یا 2.6 ٹیرابائٹس پر مشتمل معلومات کا ذخیرہ فراہم کیا گیا تھا۔
اس اخبار نے آئی سی آئی جے کو معلومات کے اس ذخیرے تک رسائی دی۔ آئی سی آئی جے میں شامل بی بی سی سمیت دنیا بھر کے اخبار نویسوں نے معلومات کے اس ذخیرے کا مطالعہ کر کے اس میں عوامی اہمیت کی معلومات نکالیں اور پھر گذشتہ ماہ ان کو اشاعت کے لیے جاری کیا گیا۔
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ پیر کو جاری کی جانے والی تفصیلات وکی لیکس کی طرز پر ڈیٹا کا ڈھیر لگانا نہیں ہے۔
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ ’ اس ڈیٹا یا معلومات میں بینک کے کھاتوں، مالی لین دین، ای میلز اور دیگر خط و کتابت، پاسپورٹ اور ٹیلی فون نمبروں کی تفصیلات شامل نہیں ہوں گی۔ منتخب شدہ اور محدود معلومات، جو مفادِ عامہ میں ہیں، صرف وہ ہی جاری کی جا رہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ دنیا کے تین سو ماہرین معاشیات نے پیر کو دنیا بھر کے سیاسی قائدین کو لکھے گئے ایک مکتوب پر دستخط کیے ہیں جن میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس چوری کے لیے بنائی ’ہیونز‘ کو ختم کیا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان ٹیکس ہیونز سے صرف انتہائی امیر افراد اور کثیر الملکی کمپنیوں کو فائدہ ہوا ہے اور ان سے معاشی ناہمواری میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس ہیونز سے دنیا کی مجموعی دولت اور خوشحالی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور ان سے کوئی معاشی مقصد حاصل نہیں ہوا۔
گذشتہ ہفتے جان ڈو نے ایک اٹھارہ سو الفاظ پر مشتمل بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوت کو ان دستاویزات کو عام کرنے کی وجہ قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ بینک اور مالیاتی نگراں ادارے اور ٹیکس حکام اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا اس طرح کے فیصلے کیے جاتے رہے ہیں جس میں امیر تو صاف بچ جاتے ہیں لیکن متوسط اور کم آمدن کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ انھوں نے کبھی بھی کسی خفیہ ادارے یا حکومت کے لیے کام نہیں کیا۔ انھوں نے عدالتوں اور سرکاری وکلا کو مکمل مدد کرنے کی اس شرط پر پیش کش کی ہے کہ انھیں معافی دلوائی جائے گی۔
ان ساری دستاویزات کا افشا کرنے والے کی شناخت جان ڈو کے نام سے کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ مرد ہیں یا عورت۔







