ہانگ کانگ کے بیوٹی سیلون پر چھاپہ

،تصویر کا ذریعہAFP
ہانگ کانگ کی پولیس کا کہنا ہے اس نے ایک بیوٹی سیلون پر چھاپہ مار کر 11 خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ چھاپہ اس بیوٹی سیلون پر آنے والے گاہکوں کی جانب سے جعلی طبی علاج کی شکایات کے بعد مارا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سات افراد نے آکسیجن انہیلیشن اور انفراریڈ لائٹ تھیراپی کے لیے پانچ لاکھ ہانگ کانگ ڈالر خرچ کیے۔
پولیس کے مطابق بیوٹی سیلون پر آنے والے مریضوں کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنا پڑتے تھے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے اپنا علاج نہیں کروائیں گے۔
ہانگ کانگ کے مقامی میڈیا کے مطابق سیلون سرطان اور ڈپریشن کا علاج بھی کرتا تھا۔
پولیس نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ بیوٹی سیلون لوگوں غیر قانونی ادویات دینے کے معاملے میں تو شامل نہیں تھا۔
ہانگ کانگ میں پولیس کی جانب سے جمعرات کو یہ چھاپے کینسر میں مبتلا ایک چینی طالب علم کی موت کے بعد مارے گئے جس کے بعد عوام کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا گيا تھا۔
چینی طالب علم نے سرچ انجن بائیڈو پر سرچ کرنے پر جو نام سب سے اوپر آيا، وہاں سے اپنا تجرباتی علاج کرانا چاہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب کمپنی کا کہنا ہے وہ احتیاط سے کام لیتی ہے۔







