ٹیڈ کروز صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے دستبردار

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی صدارتی دوڑ میں شامل رپبلکن امیدوار ٹیڈ کروز نے ریاست انڈیانا کے پرائمری انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بھاری شکست کھانے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے دست بردار ہو رہے ہیں۔
نیویارک کی ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ خود اپنی رپبلکن پارٹی کے بہت سے لوگوں میں نامقبول ہیں، لیکن اس کے باوجود اب یہ بات تقریباً یقینی ہو گئی ہے کہ وہی نامزد صدارتی امیدوار ہوں گے۔
ٹیڈ کروز نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے جو ہو سکا وہ کیا لیکن ووٹروں نے ایک اور راستے کا انتخاب کیا۔‘
دوسری جانب ریاست انڈیانا میں ڈیموکریٹ پارٹی کے برنی سینڈرز ہلیری کلنٹن کو ہرا دیں گے۔
سینڈر اگرچہ کلنٹن سے مندوبین کی گنتی کے معاملے میں خاصے پیچھے ہیں البتہ انھوں نے انڈیانا میں فتح کے بعد خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’کلنٹن کی مہم سمجھتی ہے کہ یہ مہم ختم ہو گئی ہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔‘
اس سے قبل امریکہ کی رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف ٹیڈ کروز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
کروز نے ٹرمپ کو ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر بننے کے قابل نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ٹیڈ کروز کے والد کا تعلق سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قاتل سے تھا۔ جبکہ ٹیڈ کروز نے خبردار کیا کہ ’اگر لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دے دیا تو امریکہ پاتال میں گر جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’کروز ایک بےچین امیدوار ہیں جو اپنی ناکام ہوتی مہم کو بچانا چاہتے ہیں۔‘
اس سے قبل ٹیڈ کروز اور رپبلکن پارٹی کے ایک اور امیدوار جان کیسک نے اعلان کیا تھا کہ وہ مل کر ٹرمپ کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے لیکن یہ حکمتِ عملی بھی ناکام رہی۔







