اقوام متحدہ کی یورپی یونین کی پالیسیوں پر تنقید

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کے بحران کے بارے میں یورپی یونین کی ’امیگریشن اور پناہ گزینوں کو محدود کرنے کی پالیسی‘ پر تنقید کی ہے۔
آسٹریا کی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزینوں کے بحران پر عائد کردہ پابندیاں رکن ممالک کے بین اقوامی فرائض کے منافی ہیں۔
بان کی مون آسٹریا کی پارلیمان کی جانب سے ایک ایسے مسودۂ قانون کی منظوری کے ایک دن بعد تقریر کر رہے تھے جس کے مطابق پناہ کے حصول کے حقوق کو محدود کیا جائے گا اور سرحد پر پناہ لینے کے دعووں کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین جس میں آسٹریا بھی شامل ہے، شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
گذشتہ سال دس لاکھ سے زائد افراد نے یورپ کا رخ کیا تھا جس کے بعد وہاں پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپ آنے کے خواہشمند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یورپی یونین کو اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر منقسم کر دیا ہے۔
بان کی مون نے ویانا میں آسٹریا کے اراکینِ پارلیمان کو بتایا: ’مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ یورپی ممالک اب امیگریشن اور پناہ گزینوں کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ایسی پالیسیاں رکن ممالک کے فرائض کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہیں جو بین الاقوامی انسانی اور یورپین قانون کے تحت آتی ہیں۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اگرچہ اس تقریر میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم ان کی تقریر کو آسٹریا کی پارلیمان میں منظور کیے جانے والے قانون کے تناظر میں لیا جا رہا ہے۔
اس قانون کے مطابق آسٹریا کی حکومت پناہ گزینوں کے بارے میں ’ہنگامی صورتِ حال‘ کا اعلان کر سکے گی اور شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی ملک میں پناہ لینے کی درخواست کو مسترد کر سکے گی۔
اس قانون کے مطابق آسٹریا کی حکومت پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والے کسی بھی پناہ گزین کی تین سال کی مدت کو محدود کر سکے گی۔
آسٹریا کے وزیرِ داخلہ ولف گینگ سوبوٹکا کا کہنا ہے کہ چونکہ ’یورپی یونین کے دوسرے ارکان پناہ گزینوں کے بہاؤ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں،‘ اس لیے آسٹریا کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔
آسٹریا میں منظور کیے جانے والے اس قانون کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جن میں ایمنیٹسی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہیں۔







