ترکی کا آئین سیکیولر ہی رہےگا: وزیر اعظم

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کے وزیر داؤد اوغلو نے حکمران جماعت کے کچھ اراکان کی جانب سے ترک آئین سےسیکیولرازم کے اصولوں کو ختم کرنے کےمطالبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ترکی کا آئین سیکیولر ہی رہے گا۔
وزیر اعظم کا بیان پارلیمانی سپیکر اسماعیل خرامان کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ترکی کےآئین سےسیکیولر شقوں کو ختم ہونا چاہیے۔
ترکی کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ترکی کے آئین کے جمہوری اور سیکیولر اصول پر بات نہیں ہو سکتی۔
پارلیمانی سپیکر نے جن کی نگرانی میں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار ہو رہا ہے، کہا تھا کہ ترکی ایک اسلامی ملک ہے اور اس کا آئین بھی اسلامی ہونا چاہیے۔
نیٹو کے ممبر اور یورپی یونین کا حصہ بننے کے خواہمشند ترکی کو اسلامی دنیا کی معتدل جمہوریت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
البتہ حکومت کے مخالفین کو ہمیشہ یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ حکمران جماعت اے کے پی ملک کی سیکیولر بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
ترکی میں حزب اختلاف کو ڈر رہا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے صدر رجب طیب اردوگان کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ حزب مخالف کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب اردوگان پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی نظام حکومت سے بدلنا چاہتے ہیں۔
بدھ کے روز اپنی تقریر میں ترک وزیر اعظم نے کہا تھا: ’نئے آئین میں شہریوں کےحقوق، مذہب اور عقیدے کی آزادی کے اصولوں کا تحفظ برقرار رہے گا اورسیکیولرازم کا تحفظ ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لون کا کہنا ہے کہ ترکی کے معاشرے میں سیکیولرازم اور اسلام ازم کی ایک بہت بڑی فالٹ لائن موجود ہے اور پارلیمانی سپیکر نے ایک بار اس فالٹ لائن کو واضح کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC TURKCE
ترکی کے 1920 میں بننے والے آئین میں مذہب کو ریاست سے الگ رکھاگیا ہے۔
ترکی کی اسلامی شناخت کو اجاگر کرنے کے خواہمشند لوگوں کا موقف رہا ہے کہ چونکہ ترکی کی 97 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے لہذا اس کے آئین میں اس کی جھلک نظر آنی چاہیے۔
پارلیمانی سپیکر اسماعیل خرامان نے پیر کے روز کہا تھا: ’ہم ایک مسلمان ملک ہیں۔ آئین میں سیکیولرازم کی گنجائش نہیں ہے۔‘ اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے پارلیمانی سپیکر نے کہا تھا کہ یہ ان کا ’ذاتی خیال‘ ہے۔
ترکی کی حزب اختلاف کے رہنما کمال کلچدارولو نے پارلیمانی سپیکر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کے لیے مذہب کا استعمال ایک ایسی سوچ ہے جس کے نتائج ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔







