پیرس حملے: صالح عبدالسلام کو فرانس کے حوالے کردیا گیا

پیرس حملوں کے بعد صلاح عبد السلام چار ماہ سے برسلز میں چھپے ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیرس حملوں کے بعد صلاح عبد السلام چار ماہ سے برسلز میں چھپے ہوئے تھے

بیلجیئم نے پیرس حملوں کے زندہ بچ جانے والے مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام کو فرانس کے حوالے کر دیا ہے۔

پیرس میں 13 نومبر سنہ 2015 کو ایک کنسرٹ ہال، ایک سٹیڈیم، ریستوران اور بارز پر ہونے والے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صالح عبدالسلام کو 18 مارچ کو ڈرامائی انداز میں برسلز میں گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاری برسلز میں ہونے والے دھماکوں سے چار دن پہلے عمل میں آئی تھی جن میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کا خیال ہے کہ دونوں شہروں میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ایک ہی گروہ کا ہاتھ تھا۔

26 سالہ صالح عبد السلام کی پیدائش بیلجیئم میں ہوئی تھی لیکن وہ ایک فرانسیسی شہری ہیں۔ پیرس حملوں کے بعد وہ چار ماہ تک برسلز میں چھپے رہے تھے۔

صالح عبدالسلام کو برسلز میں ہونے والے دھماکوں سے چار دن پہلے گرفتار کیا گیا جن میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصالح عبدالسلام کو برسلز میں ہونے والے دھماکوں سے چار دن پہلے گرفتار کیا گیا جن میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے

گرفتاری کے بعد عبد السلام سے پیرس حملے میں مبینہ کردار کے بارے میں پوچھ گچھ گئی تھی اور اب انھیں فرانس کے حوالے کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بیلجیئم میں ہونے والے حالیہ حملے پر انھوں نے ’خامشی کے حق‘ کا استعمال کرتے ہوئے اس متعلق سوالات کے جواب نہیں دیے۔

محمد عبدالسلام نے اپنے بھائی سے بروزہ جیل میں ملاقات کے بعد بتایا کہ صالح نے انھیں بتایا کہ وہ فرانسیسی حکام کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ ’بیلجیئم کے بجائے فرانس کو جوابدہ ہے۔‘

تاہم بیلجیئم کے حکام کا کہنا ہے کہ برسلز کے کم از کم دو بمباروں سے صالح کا تعلق ہے۔ ان کی انگلیوں کے نشانات خالد البکراوی کے کرائے کے فلیٹ میں پائے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ خالد نے خود کو برسلز کے میٹرو سٹیشن پر 22 مارچ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا تھا۔