’صالح کے فلیٹ سے جوہری مرکز کی دستاویزات برآمد‘

،تصویر کا ذریعہAP
اطلاعات کے مطابق پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام کے برسلز کے فلیٹ سے جرمنی کے جولچ نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔
صالح عبدالسلام کو برسلز میں ہونے والے دھماکوں سے چار روز قبل گرفتار کیاگیا تھا۔ میڈیا نیٹ ورک آر این ڈی کے مطابق ان کے فلیٹ سے جرمنی کے جوہری ریسرچ سینٹر کی بارے میں دستاویزات کے پرنٹ آؤٹ اور اس سینٹر کے سربراہ کی تصاویر بھی برآمد ہوئیں۔
واضح رہے کہ جولچ ریسرچ سینٹر کو ڈی کمیشن کر دیا گیا تھا اور جرمنی کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام ایٹمی پلانٹس محفوظ ہیں۔
سینیئر جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
تاہم آر این ڈی نے جرمنی کی پارلیمنٹری کنٹرول کمیٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کو مارچ میں جرمنی کی اندرونی انٹیلیجنس کے سربراہ نے اس حوالے سے بریفنگ دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBelgian Police
جولچ بیلجیئم کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
صالح عبدالسلام کو چار ماہ کی تلاش کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر پیرس میں حملے کرنے کا الزام ہے جن میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب برسلز میں ہونے والے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث کئی افراد جمعرات کو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استغاثہ نے محمد ابرینی کی برسلز ہوائی اڈے کے تیسرے بمبار کے طور پر شناخت کی ہے۔ ابرینی نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر تیسرا بم نہیں پھاڑا۔ ’میں کبھی شام نہیں گیا اور میں تو مکھی بھی نہیں مارتا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
استغاثہ کے مطابق 31 سالہ ابرینی کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں وہ پیرس پر حملے سے قبل صالح عبدالسلام کے ساتھ دیکھے گئے اور برسلز میں دو ’سیف ہاؤسز‘ میں ان کی انگلیوں کے نشان بھی پائے گئے۔
برسلز کی عدالت میں ملزمان کو لانے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ ابرینی کے علاوہ اسامہ کریم، بلال المخوقی اور ہیرو بی ایم کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسامہ کریم کو سوٹ کیس خریدتے ہوئے دیکھا گیا ہے جن میں برسلز کے ہوائی اڈے میں بم لے جائے گئے۔







