’ایران اور داعش کے بارے میں متحدہ حکمت عملی پر اتفاق‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے صدر براک اوباما نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات میں ایران اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی بارے میں متحدہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر بدھ کو رات گئے سعودی عرب پہنچے اور ان کا یہ سعودی عرب کا چوتھا اور بطور صدر آخری دورہ ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور خلیجی ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
صدر اوباما جمعرات کو ریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے اجلاس میں بھی شرکت کر رہے ہیں۔
جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور اومان شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر اوباما اور شاہ سلمان اور دیگر شہزادوں کے درمیان ملاقات دو گھنٹے جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری تصادم پر بات چیت کی جن پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
صدر اوباما نے شاہ سلمان کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب کا انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں بات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اور شاہ سلمان نے ایران کی جانب سے خطے میں اشتعال انگیز سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کی اور دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شام میں جاری مسلح تصادم کے خاتمے پر بات کی اور شام میں سیاسی تبدیلی پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل صدر اوباما نے اپنے ہوٹل میں ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے یمن کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
سیکریٹری دفاع ایش کارٹر بھی اس دورے میں امریکی صدر کے ہمراہ ہیں۔
ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ وہ خطے میں ایران کی ’غیرمستحکم کرنے والی سرگرمیوں‘ کے خلاف فوجی اور سمندری کارروائیوں کے لیے مدد طلب کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیاں اٹھائے جانے حمایت سے خطے میں ایران کے سب سے بڑے حریف سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
حال ہی میں سعودی عرب نے اوباما انتظامیہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے کوئی ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت اگر کسی امریکی عدالت نے سعودی عرب کو 11 ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تو سعودی عرب امریکہ میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے فروخت کر دے گا۔







