غربت سے تنگ خاندان اعضا فروخت کرنے پر مجبور

- مصنف, احمد مہر
- عہدہ, بی بی سی عربی، بغداد
امِ حسین ایک ایسی ماں ہیں جو پریشانیوں کی انتہا پر ہیں۔ لاکھوں عراقیوں کی طرح وہ بھی اپنے خاوند اور چار بچوں کے ساتھ غربت سے نبردآزما ہیں۔
ذیابیطس اور دل کے مرض کا شکار ان کے خاوند علی بیروزگار ہیں۔ گذشتہ نو سالوں سے امِ حسین اپنے گھر کی واحد کفیل ہیں اور گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں۔ تاہم اب وہ بہت تھک گئی ہیں اور مزید کام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک کمرے کی عارضی رہائش گاہ میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم امِ حسین بتاتی ہیں کہ ’میں بہت تھک چکی ہوں۔ ہمارے پاس گھر کے کرائے، ادویات، بچوں کی ضروریات، اور کھانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘
ان کے خاوند گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں نے ہر وہ کام کیا ہے جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ مزدوری سے لے کر کوڑا جمع کرنے کا کام تک۔ میں اپنی طرف سے لوگوں سے کبھی پیسے نہیں مانگتا، تاہم وہ مجھے دے دیتے تھے۔ میں کھانا بھی نہیں مانگتا تھا۔
’میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں کہ سڑک سے باسی روٹی لے آؤ، ہم وہ کھا لیں گے لیکن میں کھانے کے لیے کسی سے رقم نہیں مانگوں گا۔‘ شدید غربت کے باعث ام حسین بہت بڑی قربانی دینے پر مجبور ہو گئی تھیں۔
وہ بتاتی ہیں: ’میں نے اپنا گردہ بیچنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے لیے کما نہیں پا رہی تھی۔ یہ خیرات پہ گزارہ کرنے یا جسم فروشی کی طرف مائل ہونے سے بہتر تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ
گردہ بیچنے کے لیے اس جوڑے نے ایک غیرقانونی تاجر سے رابطہ کیا، تاہم ابتدائی طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کے گردے اس قابل نہیں ہیں کہ اعضا کی تبدیلی کا آپریشن برداشت کر سکیں۔
شدید مایوسی کے عالم میں میاں بیوی انتہائی قدم اٹھانے پر بھی غور کرنے لگے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے نو سالہ بیٹے حسین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علی نے غصے کی کیفیت میں بتایا: ’اپنے بدترین حالات کے باعث ہم اپنے بیٹے کا گردہ فروخت کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
’بھیک مانگنے سے بچنے کے لیے ہم کچھ بھی کرنے کےلیے تیار تھے۔ آخر ہم ایسی صورت حال میں تھے ہی کیوں؟‘
تاہم بعد ازاں انھوں نے یہ قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے محض خیال ہی سے ان کے دل ٹوٹ گئے تھے۔
شدید غربت کے باعث گردوں اور دیگر انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت بغداد میں ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری ہے۔
عالمی بینک کے سنہ 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق عراق کی آبادی کا تقریباً 22.5 فیصد، یعنی تین کروڑ افراد، غربت کا شکار ہے۔
غربت کا شکار ان لوگوں مختلف گروہوں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ لوگ ایک گردے کے لیے دس ہزار ڈالر تک دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بغداد، مشرق وسطیٰ میں انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت کے اہم مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق کے وکیل فراس البیاتی کہتے ہیں ’یہ مسئلہ اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ حکام کے لیے اس پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔
’گذشتہ تین ماہ کے دوران میں 12 ایسے افراد کی وکالت کر چکا ہوں جنھیں اپنے گردے بیچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اور ان کے اس فیصلے کی وجہ غربت تھی۔‘
سنہ 2012 میں انسانی اعضا کے غیر قانونی کاروبار کی روک تھام کے لیے حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کروایا تھا۔
اس قانون کے تحت صرف رشتے دار ہی اپنے عزیز کو باہمی رضامندی کے تحت انسانی اعضا عطیہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس غیر قانونی کاروبار سے منسلک افراد اکثر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ فریقین آپس میں رشتے دار ہیں، عضو بیچنے اور خریدنے والوں کے جعلی کاغذات بھی تیار کر لیتے ہیں۔
غیر قانونی طور پر انسانی اعضا فروخت کرنے کے جرم میں تین سال قید سے لے کر سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
ہمیں عراقی جیل میں قید ایک ایسے شخص تک خصوصی طور پر رسائی دی گئی جنھیں گردے فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
ہماری ملاقات محمد سے ہوئی، انھوں نے اپنا مکمل نام بتانے سے انکار کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہ
دو بچوں کے والد، محمد نے بتایا: ’شروع میں مجھے غلط کام میں ملوث ہونے کا احساس نہیں تھا۔ میں اسے انسانی ہمدردی کے کام کی نظر سے دیکھتا تھا، تاہم اس کاروبار سے منسلک ہونے کے چند ماہ بعد میرے اندر اس کی اخلاقی حیثیت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ اس کی بڑی وجہ اپنے اعضا فروخت کرنے والے افراد کی خستہ حالی تھی۔ نوجوانوں کو پیسوں کے لیے اپنے اعضا فروخت کرتے دیکھ کے مجھے بہت دکھ ہوتا تھا۔‘
محمد کے مطابق بغداد کے مقابلے میں نرم قوانین کے سبب اعضا کی تبدیلی کے غیر قانونی آپریشن زیادہ تر عراقی کردستان کے ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔
بغداد کے گردوں کے ہسپتال کڈنی ڈیزیزز اینڈ ٹرانسپلانٹ سنٹر کے سرجن رافد العقیلی بتاتے ہیں: ’دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں جو سرجنوں کو موردالزام ٹھہراتا ہو۔
’یہ حقیقت ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں شبہات ہوتے ہیں، تاہم آپریشن روکنے کے لیے اتنا کافی نہیں، کیونکہ آپریشن نہ ہونے کی صورت میں لوگ مر جائیں گے۔‘
تاہم ان تمام باتوں میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں جو حسین خاندان کی زندگی آسان کر سکے۔







