ملزم نے گلاسگو کے دکاندار کے قتل کا اعتراف کر لیا

اسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے گاہکوں کو ایسٹر کی مبارک باد پیش کی تھی اور اسی پیغام کے فورا بعد انہیں قتل کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشناسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے گاہکوں کو ایسٹر کی مبارک باد پیش کی تھی اور اسی پیغام کے فورا بعد انہیں قتل کیا گیا تھا

برطانوی شہر گلاسگو میں ایک دکاندار اسد شاہ کو قتل کرنے والے ملزم نے انھیں یہ کہہ کر قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے کہ انھوں نے اسلام کی توہین کی تھی۔

بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ تنویر احمد پرگلاسگو میں اسد شاہ کی دوکان کے باہر انھیں قتل کرنے کا الزام ہے۔

اپنے ایک بیان میں تنویر نے کہا ہے کہ اس قتل کا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد شاہ نے اسلام کی توہین کی تھی اسی لیے انھوں نے ان کا قتل کر دیا۔

اسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے گاہکوں کو ایسٹر کی مبارک باد پیش کی تھی اور اسی پیغام کے فوراً بعد انھیں قتل کیا گیا تھا۔

پولیس نے بھی تفتیش کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ قتل مذہبی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے اسد شاہ کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی فیملی کے لیے چندہ جمع کیا گیا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبڑی تعداد میں لوگوں نے اسد شاہ کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی فیملی کے لیے چندہ جمع کیا گیا

تنویر احمد نے اپنے وکیل جان ریفٹی کے ذریعے اپنا بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان ان کے موکل نے جاری کرنے کو کہا ہے اور اس کے الفاظ خود ان کے موکل کے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA

’اگر میں یہ کام انجام نہیں دیتا تو کوئی دوسرا کر دیتا جس سے دنیا میں مزید خون خرابہ اور قتل و غارت گری ہوتی۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا عیسائیت یا کسی دوسرے مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ میں تو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہوں لیکن میں حضرت عیسیٰ کی عزت و احترام بھی کرتا ہوں۔‘

تنویر احمد ابھی عدالتی تحویل میں جنھیں جلد ہی ہائی کورٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے اسد شاہ تقریباً بیس برس قبل پاکستان سے برطانیہ کے شہر گلاسگو منتقل ہوئے تھے۔

24 مارچ کو شالینڈ منراڈ روڈ پر وہ اپنی دوکان کے باہر شدید زخمی حالات میں پائے گئے تھے اور ہسپتال میں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔