اسلام مخالف جذبات کے خلاف فلم کی نمائش

فلم فریسیا میں یہ دکھایا گیا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کی وجہ سے کیسے تین خاندان متاثر ہوئے
،تصویر کا کیپشنفلم فریسیا میں یہ دکھایا گیا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کی وجہ سے کیسے تین خاندان متاثر ہوئے
    • مصنف, شبنم محمود
    • عہدہ, بی بی سی، ایشین نیٹ ورک

برسلز میں ہونے والے حملوں کے بعد برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کا خدشات بڑھ گئے ہیں۔ برطانیہ میں ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان فنکار نے فلم بنائی ہے۔

فلم کا نام فیریسیا ہے، اور اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کی وجہ سے کیسے تین خاندان متاثر ہوئے۔ اس میں پاکستانی، عراقی اور سفید فام ملازم پیشہ افراد کی زندگی دکھائی گئی ہے۔

فلم میں نمایاں کردار ادا کرنے والے بریڈ فورڈ کے مقامی فنکار عاقب خان کا کہنا ہے کہ ’ فلم کا سکرپٹ میرے لیے بہت زیادہ معنی رکھتا ہے اور بہت سے لوگوں اسے دیکھیں گے اور پسند کریں گے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جو بھی عدل و انصاف کی بات کرتے ہیں وہ اسے پسند کریں گے۔ بریڈ فورڈ میں رہتے ہوئے میں نے نسلی تعصب برداشت کیا ہے۔ ہمارے مذہب کے بارے میں ایسی منفی باتیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، میں انھیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘

برسلز میں ہونے والے شدت پسند حملوں کے چند ہی دن بعد بریڈ فورڈ میں فلم کی رونمائی ہوئی۔ برطانیہ میں مسلمانوں اور خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کی اکثریت بریڈ فورڈ میں رہتی ہے۔

فریسیا فلم کی سینما گھروں میں نمائش سے پہلے اسے دنیا بھر کے فلمی میلوں میں دکھایا جائے گا۔ جس کے بعد سال کے آخر میں فلم عوام کے لیے ریلیز کی جائے گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اسلام مخالف جذبات کے بارے میں یہ برطانیہ میں بننے والی پہلی فلم ہے۔ فلم کا مقصد لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی دینا بھی ہے۔

گذشتہ برس پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد ایک ہفتے کے دوران اسلام سے نفرت پر مبنی جرائم کی شرح میں 300 فیصد اضافہ ہوا تھا۔